معرفت الہی
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
فکری اعتکاف ایک اعتکاف وہ ہے جو رمضان کے مہینے میں مسجد کے اندر کیا جاتا ہے۔ اس اعتکاف کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: وأنتم عاكفون فى المساجد (2:187)۔ دوسرا اعتکاف فکری اعتکاف (intellectual seclusion) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آتا ہے کہ: کان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم متواصل الأحزان، دائم الفکرۃ (الشما ئل للترمذی، حدیث نمبر 225) اس سے مراد یہی فکری اعتکاف ہے، یعنی خاموشی کے ساتھ سوچتے رہنا۔ مسجد کا اعتکاف منم (minimum) اعتکاف ہے۔ اس کے برعکس، ذہنی اعتکاف مکسم (maximum) اعتکاف۔ صحابہ کے درمیان اس ذہنی اعتکاف کا عام رواج تھا۔ بعض صحابہ کے بارے میں صراحۃً اس کی مثال ملتی ہے۔ مثلاً حضرت ابو الدرداء انصاری کے بارے میں اُن کی وفات کے بعد اُن کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کی خاص عبادت کیا تھی۔ ام الدرداء نے جواب دیا: التفکر والإعتبار، (حليۃ الاولیاء، 1/208) یعنی غور کرنا اور نصیحت پکڑنا۔ یہ فکری اعتکاف وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں— تفکر، تدبر، تذکر، توسم اور تعقل، وغیرہ۔ اس سے مراد ہے چیزوں پر سوچنا۔ سوچنے کا یہ عمل بے حد اہم ہے۔ سوچنے کے عمل سے تمام اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ مثلاً حکمت، معرفت، ذہنی ارتقا، ازدیادِ ایمان، گہرے معانی کی دریافت، وغیرہ۔ یہ فکری اعتکاف کسی مومن کے لیے بے حد اہم ہے۔ مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ ہے، ہر قسم کے ڈسٹریشن (distraction) سے اپنے آپ کو بچانا۔ اس کے بغیر فکری اعتکاف کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی اعتکاف ایک مسلسل فکری عمل کا نام ہے۔ اسی فکری عمل سے وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو قرآن میں از دیادِ ایمان (الانفال، 8:2) کہا گیا ہے۔ فکری عمل نہیں، تو از دیادِ ایمان بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader