Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

ممنونیت اولی، ممنونیت ثانیه قرآن کی سورہ طہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى (20:37) ۔ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ پیغمبر موسیٰ قدیم مصر کے ایک اسرائیلی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُس زمانے کا بادشاہ فرعون اسرائیلی نسل کو ختم کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے یہ حکم دے دیا تھا کہ اسرائیلی گھروں میں جو لڑکا پیدا ہو، اس کو مار ڈالا جائے۔ موسیٰ کا انجام بھی یہی ہو سکتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص تدبیر کے ذریعہ ان کو بچا لیا۔ یہ موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کا پہلا احسان تھا۔ اس کے بعد جب حضرت موسیٰ کو نبوت عطا ہوئی اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ کہا کہ ہارون کو میرے مددگار کے طور پر مجھے دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ یہ حضرت موسیٰ کے لیے ایک استثنائی عطیہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک پیغمبر کی درخواست پر دوسرے شخص کو پیغمبر بنا دینا۔ قرآن کے مذکورہ بیان میں اسی دوسرے احسان کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا پہلا احسان یہ تھا کہ ان کو بچپن میں ہلاکت سے بچا لیا۔ اور دوسرا احسان یہ تھا کہ ان کی درخواست پر ایک غیر نبی کو نبی بنا دیا، تاکہ وہ ان کی بھر پور مدد کرے۔ قرآن کا ایک اسلوب یہ ہے کہ اس کی آیتوں کا ایک مصداق اوّل (first application) ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ اس کا ایک مصداق ثانی (second application) ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ کا مذکورہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی خاص واقعہ ایسا پیش آتا ہے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کی بنا پر نقصان سے بچ جاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بارے میں خدا کی اس پہلی مدد کو دریافت کرے، تاکہ وہ اس کے حوالے سے خدا کی دوسری مدد کے لیے درخواست کر سکے۔ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَى میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اگر کسی انسان کو ممنونیت اولیٰ کی حقیقی دریافت ہو جائے تو اس کے اندر ایک گہرا جذبہ پیدا ہوگا، وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ خدا کی ممنونیت اولیٰ کے حوالے سے، اپنے حق میں خدا سے ممنونیت ثانیہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page