ذکر و دعا
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
درخواست کر سکے۔ دعا کے لئے یہ ایک اہم حوالہ (point of reference) ہے جو ہر عورت اور مرد کی زندگی میں پایا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ گہری سوچ کے ذریعہ اس حوالے کو دریافت کرسکے۔ ایک شخص کا واقعہ ہے۔ اپنی نوجوانی کی عمر میں کسی حادثے کی بنا پر وہ بہت زیادہ مایوس ہوا، حتیٰ کہ اس نے خودکشی کا اقدام کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے بروقت اس کی مدد کی اور وہ خودکشی کی موت مرنے سے بچ گیا۔ بعد کو بڑی عمر میں جب اس کا مطالعہ بڑھا اور اس نے حقیقتوں کو جانا تو اس نے اپنی نوجوانی کی عمر کے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا کی کہ خدایا، اگر میں خودکشی کر کے مر گیا ہوتا تو آج میں جہنم کی آگ میں پڑا ہوا ہوتا۔ یہ تیرا احسان تھا کہ تو نے مجھ کو پہلی بار جہنم سے بچا لیا۔ طبعی موت کے بعد دوبارہ مجھے اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ہوگا۔ اُس وقت تو دوبارہ مجھے جہنم کی آگ سے بچا لے ۔ تو نے پہلی بار میرے ساتھ احسان فرمایا، اب دوسری بار بھی تو میرے ساتھ احسان فرما اور میرے اوپر اپنی نعمت (blessing) کو مکمل کر دے۔ سب سے زیادہ مؤثر دعا وہ ہوتی ہے جو کسی واقعے کے حوالہ (point of reference) کو لے کر کی جائے۔ مذکورہ قسم کا حوالہ ہر آدمی کی زندگی میں موجود ہوتا ہے جو اس کی دعا کو نہایت مؤثر بنا دیتا ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ اس قسم کا غور وفکر نہیں کرتے، چناں چہ وہ اس قیمتی حوالے سے محروم رہتے ہیں۔ اس بے خبری کی بنا پر لوگوں کو دعا کا صرف ایک تصغیری فارم (reduced form) حاصل ہوتا ہے۔ وہ دعا کے نام پر کچھ الفاظ کو یاد کر لیتے ہیں اور ان یاد کئے ہوئے الفاظ کو دہراتے رہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔ جب آدمی کے پاس دعا کا اعلیٰ فارم موجود ہو، لیکن وہ صرف دعا کے ادنیٰ فارم کو دہراتا ہے تو یہ اس کے لیے اتنی بڑی محرومی ہوگی جتنی بڑی محرومی اور کوئی نہیں۔ دعا کے نام پر رٹے ہوئے الفاظ کو دہرانا، بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ دعا کا اعلیٰ طریقہ ہے۔ ایک رحمتِ خداوندی کے حوالے سے، دوسری رحمتِ خداوندی کا طالب بننا: Asking another blessing with reference to previous blessing.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader