ذکر و دعا
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
عدمِ قدرت کی دریافت قرآن کی سورہ البلد میں ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ، أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ (95-5) یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کسی کو قدرت حاصل نہیں۔ یہاں انسان سے مراد بنی نوع انسان ہے، اور کبد سے مراد سختی (sufferings) ہے۔ قرآن کے اس حصے میں کبد کے ساتھ قدرت کا ذکر ہے ۔ اس سے کبد کی مصلحت معلوم ہوتی ہے۔ انسان کو اللہ نے غیر معمولی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا۔ اسی کے ساتھ اس کو ایسے حالات میں ڈال دیا کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کبد میں مبتلا رہے، بظاہر ہر سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود اس کی زندگی کبد سے خالی نہ ہو۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ انسان اپنی عدم قدرت کو دریافت کر سکے۔ انسانی زندگی میں بظاہر قدرت کے باوجود کبد کے پائے جانے کی مصلحت یہی ہے : Suffering is a compulsive reminder of God's absolute power. اس اعتبار سے دیکھیے تو انسانی زندگی میں کبد کا پایا جانا زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کا معاملہ ہے۔ خدا سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود غیب میں ہے۔ لازمی کبد کی صورت میں خدا انسان کو اپنی موجودگی (presence) کا تجربہ کراتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ینزل البلاء ليستخرج به الدعاء (الشکر للہ لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 129) یعنی مصیبت اس لیے آتی ہے تا کہ انسان کے دل سے دعا نکلے۔ دعا نکلنے کا مطلب صرف دعا کے الفاظ نکلنا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ذہن بیدار ہو، اس کے اندر اعلی کیفیات پیدا ہوں، وہ خدا کی صفات کو نئی نئی صورتوں میں دریافت کرنے لگے، اور جب ایسا ہوگا تو اس کی زبان سے دعا کے ایسے الفاظ نکلیں گے جو عام حالات میں اس کی زبان سے نہیں نکلے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader