Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

غم کو دعا میں ڈھالنا قرآن کی سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اُن کے سوتیلے بھائیوں کے غلط سلوک کی وجہ سے وہ وقت آيا جب کہ حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب بظاہر اپنے دو عزیز بیٹوں سے محروم ہو گئے۔ اس حادثے کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبان سے یہ دعائیہ کلمہ نکلا: إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ (12:86) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔ پیغمبر کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ ایک اہم حقیقت کو بتاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن جب کسی غم سے دوچار ہوتا ہے تو وہ عام انسان کی طرح آہ اور فریاد میں مبتلا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایمانی شعور اس کے غم کو دعا میں ڈھال دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف رجوع ہو کر اُس سے التجا کرنے لگتا ہے کہ وہ اُس کے کھونے کو یافت میں بدل دے، وہ اُس کی محرومی کی حسن تلافی فرمائے۔ کسی انسان کے ساتھ جب غم اور محرومی کا تجربہ پیش آتا ہے تو اُس کے لیے رد عمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک ہے، انسانوں کی طرف دیکھنا، اور دوسرا ہے، خدا کی طرف دیکھنا۔ جو لوگ حادثہ کے وقت انسان کی طرف دیکھیں، وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ انسان کے خلاف فریاد وفغاں میں مبتلا ہو جائیں۔ مگر جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ اس قسم کے تجربہ کے بعد خدا کو یاد کرنے لگے، وہ چھینے والے کے بجائے دینے والے کو اپنا مرکز توجہ بنا لے گا۔ اُس کا ذہن مایوسی کے بجائے اُمید کا آشیانہ بن جائے گا۔ دعا ایک طاقت ہے۔ نازک وقتوں میں دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ دعا اس اعتماد کا سر چشمہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی کھونا آخری نہیں، بلکہ ہر کھونے میں از سر نو پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہر آدمی کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایسے لمحات میں خدا سے دعا کرنا آدمی کے دل کو سکون بخشتا ہے۔ دعا گو یا کسی آدمی کے لیے کرائسس مینجمنٹ (crisis management) کا بہترین ذریعہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page