Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

دو بول آپ امام البخاری کی کتاب "صحیح" کو پڑھنا شروع کریں تو جب آپ اس کے خاتمہ پر پہنچیں گے تو آخر میں آپ کو یہ حدیث لکھی ہوئی ملے گی: کلمتان حبیبتان إلى الرحمن، خفیفتان علی اللّسان ثقیلتان في المیزان سُبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم ( دو بول خدائے مہربان کو محبوب ہیں۔ وہ زبان پر ہلکے ہیں مگر قیامت کی میزان پر بھاری ہیں۔ وہ بول ہیں: سبحان الله و بحمده سبحان الله العظیم ) ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ دونوں بول زمین اور آسمان کی تمام چیزوں سے زیادہ وزنی ہیں۔ وہ قیامت میں اعمال کے ترازو کو جھکا دینے والے ہیں۔ مگر ان بولوں کی یہ اہمیت ان کے تلفظ میں نہیں ہے، بلکہ ان کی حقیقت میں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ وہ جس معنویت کا اظہار ہیں، وہ معنویت اپنی اہمیت میں تمام چیزوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ یہ دونوں بول دراصل معرفتِ خداوندی کے بول ہیں۔ ایک شخص کو ایمان کی معرفت حاصل ہوئی ۔ اس نے اللہ کی پاک ہستی کا ادراک کیا۔ اس نے دیکھا کہ کائنات اپنے ان گنت کرشموں کے ساتھ اس کی حمد میں نغمہ سنج ہے۔ اس صاحبِ معرفت انسان نے اپنے اندر اور اپنے باہر خدا کی عظمت و جلال کی نشانیاں دیکھیں ۔ اس معرفت نے اس کے سینہ میں حمد الہی اور اعترافِ خداوندی کا طوفان برپا کر دیا۔ وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ خدایا تو پاک ہے۔ ساری حمد تیرے لیے ہے۔ تو سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ اس کی زبان پر بے اختیار یہ کلمات جاری ہو گئے: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم ۔ اس طرح کا ایک بول محض ایک انسانی بول نہیں، وہ خدا کی بے پایاں عظمتوں کا انسان کی زبان سے اظہار ہے ۔ وہ تمام باوزن چیزوں سے زیادہ باوزن ہے۔ وہ بلاشبہ اسی قابل ہے کہ وہ جس پلڑے میں رکھا جائے، وہ اس پلڑے کو جھکا دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page