ذکر و دعا
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمانی کیفیات ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرض علی ربی عز و جل لیجعل لي بطحاء مكة ذهبا، فقلت لا يا رب، ولكن أشبع يوما و أجوع يوماً۔ فإذا جعت تضرعت إليك وذكرتك وإذا شبعت حمدتك وشكرتك (مسند احمد 5/254) یعنی اللہ نے میرے لئے یہ پیش کش فرمائی کہ تمھارے لیے مکہ کی وادی کو سونا بنا دیا جائے۔ میں نے کہا کہ اے میرے رب، نہیں۔ بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور ایک دن بھوکا رہوں۔ پھر جب مجھے بھوک لگے تو میں تجھ سے تضرع کروں اور تجھ کو یاد کروں اور جب مجھے سیری حاصل ہو تو میں تیری حمد کروں اور تیرا شکر کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمانی کیفیات کا تعلق براہ راست طور پر حالات سے ہے۔ زندگی میں جب بھی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو اس کے لحاظ سے مومن کے لیے ایمانی کیفیات کا سرمایہ موجود رہتا ہے۔ جس طرح احوال کی بہت سی قسمیں ہیں، اسی طرح ایمانی کیفیات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں، اور ہر قسم میں اُس کے مطابق، آدمی کے اندر ایمانی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو امتحان کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر عورت اور مرد کے ساتھ طرح طرح کے احوال پیش آتے ہیں۔ ایسا اسی لیے ہوتا ہے، تا کہ یہ دیکھا جائے کہ کون اپنی جانچ پر پورا اترا اور کون اس میں ناکام ہو گیا۔ اس دنیا میں آرام کی حالت ہو یا تکلیف کی حالت ہو، دونوں حالتیں اضافی ہیں۔ دونوں حالتوں میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کسی عورت یا مرد سے جو مطلوب رویہ درکار تھا، اس کا ثبوت اُس نے دیا یا نہیں دیا۔ اصل اہمیت حالات کے مقابلے میں آدمی کے رسپانس (response) کی ہے، نہ کہ خود حالات کی۔ یہ حقیقت جس عورت اور مرد پر واضح ہو جائے، اُس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اُس کی نظر آرام اور تکلیف پر نہ ہوگی، بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ پیش آمدہ حالات میں اس نے کس قسم کے رد عمل کا ثبوت دیا، شکر کا یا ناشکری کا، صبر کا یا بے صبری کا۔ ایسے لوگ ہر حال میں اپنا احتساب کریں گے، نہ کہ خارجی حالات کا شکوہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader