ذکر و دعا
Urdu book, p. 318
By Maulana Wahiduddin Khan
غور و فکر ایک عبادت عن محمد بن واسع : أن رجلاً من البصرة ركب إلى أم ذر رضي الله عنها بعد وفاة أبي ذر رضي الله عنه، يسألها عن عبادة أبي ذر، فأتاها فقال : جئتك لتخبريني عن عبادة أبي ذر، قالت : كان النّهار أجمع خالياً يتفكر ( ابُنعيم حليۃ الاولیاء، 164/1 )۔ یعنی محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابو ذر صحابی کی وفات کے بعد ایک آدمی بصرہ سے سفر کر کے أم ذر ( اہلیہ ابو ذر ) کے پاس آیا، تاکہ وہ ابو ذر کی عبادت کے بارے میں اُن سے معلوم کرے ۔ وہاں پہنچ کر اس نے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں، تاکہ آپ مجھ کو ابو ذر کی عبادت کے بارے میں بتائیں۔ اُم ذر نے کہا کہ وہ سارے دن تنہائی میں بیٹھ کر غور و فکر کرتے تھے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول کی خصوصی عبادت کیا ہوتی تھی۔ وہ وہی چیز ہوتی تھی جس کو قرآن میں تفکر، تذکر، تدبر، توسم اور تعقل جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی فطرت (nature) میں اور دینی امور میں غور کرتے رہنا، غور و فکر کے ذریعے ہر روز اپنے لیے ربانی غذا حاصل کرنا، متعین عبادات کے سوا، غیر متعین عبادت میں مشغول رہنا۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے رُٹین (routine) کا طالب ہے۔ اُس کا ہر کام رُٹین کے تحت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے، پانچ وقت کی نماز گویا کہ رُٹین کی نماز ہے۔ یہ رُٹین بلا شبہ ضروری ہے، مگر عبادت اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ یہی تسلسل، مومن کی زندگی میں غور و فکر کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس دنیا کے ہر مشاہدے اور تجربے میں خدا کی تجلی شامل رہتی ہے۔ یہی تجلیات جب زندہ احساس بن جائیں تو اُس کو ذکر و فکر کہا جاتا ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں انسان کی تخلیق کا مقصد قرار دیا گیا ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (51:56) ۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader