ذکر و دعا
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
توبہ اسلام میں توبہ کے لفظی معنی رجوع کے ہیں، یعنی لوٹنا۔ دینی اصطلاح میں توبہ کا مطلب ہوتا ہے گناہ کے بعد دوبارہ اصلاح کی طرف لوٹنا۔ توبہ کی اصل ندامت ہے۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے: الندم توبة (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر (4252) یعنی توبہ یہ ہے کہ آدمی اپنے گناہ پر سخت شرمندہ ہو۔ توبہ اپنی زبان سے کسی لفظ کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ توبہ دراصل شدید طور پر احساسِ خطا کا نام ہے۔ جب آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو تو وہ اس کا تحمّل نہیں کر سکتا کہ وہ دوبارہ اپنی غلطی کا اعادہ کرے ۔ اس لئے توبہ کے ساتھ لازمی طور پر اصلاح کا تصور جڑا ہوا ہے۔ اگر توبہ کے باوجود آدمی اپنی اصلاح نہ کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس نے حقیقی معنوں میں توبہ نہیں کیا۔ توبہ کرنے والوں کے ذکر کے تحت، قرآن میں یہ آیت آئی ہے: فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (25:70) یعنی اللہ تو بہ کرنے والوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا : God will change the evil deeds of such people into good ones. اگر ایک آدمی سے برائی ہو جائے۔ اس کے بعد اس کو خدا کی یاد آئے۔ وہ خدا کی بازپرس کو سوچ کر تڑپ اٹھے، وہ توبہ اور استغفار کرتے ہوئے خدا کی طرف دوڑ پڑے، تو خدا اپنی رحمت سے ایسی برائی کو نیکی کے خانے میں لکھ دے گا۔ کیوں کہ وہ برائی آدمی کے لیے خدا کی طرف رجوع کرنے کا سبب بن گئی۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ : الإنسان مركّب من الخطأ والنسيان - اسی طرح انگریزی زبان میں یہ مقولہ ہے کہ غلطی کرنا انسان کی خصلت ہے (to err is human)۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں معیاری طور پر صالح بننا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جو چیز ممکن ہے، وہ یہ کہ آدمی تو بہ کرنے والا بنے، غلطی کرنے کے بعد وہ فوراً چونکے، وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو، وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ خدا کی طرف رجوع کرنے والا بن جائے، یہی انسان سے مطلوب ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی پر اصرار نہ کرے اور وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرتا رہے تو وہ خدا کے یہاں قابل معافی قرار دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader