ذکر و دعا
Urdu book, p. 322
By Maulana Wahiduddin Khan
دعاء اعظم دعا کا لفظی مطلب پکارنا(to call) ہے، یعنی بندے کا اپنے احساس بندگی کے تحت اپنے رب کو پکارنا۔ اس دعا کی دو قسمیں ہیں۔ اس کی عام قسم یہ ہے کہ دعا کے مقرر الفاظ کو یاد کر لینا اور ان مقرر الفاظ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ دعا کی دوسری قسم وہ ہے جس کو دعائے اعظم کہا جا سکتا ہے۔ یہ دعا وہ ہے جب کہ بندے پر اپنی عبدیت کا گہرا احساس طاری ہو اور وہ ایسے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کو پکارے جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک دعا ان الفاظ میں آئی ہے : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (2:201)۔ آپ اس دعا کو پڑھیں اور آپ کے اندر گہرا جذبۂ عبدیت جاگ اٹھے۔ اُس وقت آپ کو وہ نعمتیں یاد آئیں جو موجودہ دنیا میں آپ کو اللہ نے دی ہیں اور پھر آپ لرزتے ہوئے قلب کے ساتھ کہیں کہ خدایا، تو نے مجھے دنیا کے حسنہ سے محروم نہیں کیا، اب تو آخرت کا حسنہ بھی میرے لیے مقدر کر دے۔ اسی طرح آپ اس حدیث قدسی کو پڑھیں: أنا عند ظن عبدی بی، فليظن بي خير ما أحب (ذخیرة الحفاظ لابن القیسرانی، حدیث نمبر 6541) یعنی میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، تو بندے کو چاہیے کہ وہ مجھ سے اپنے محبوب خیر کا گمان کرے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے آپ کو خدا کی وہ رحمتیں (blessings) یاد آئیں جو موجودہ دنیا میں خدا نے آپ کو دی ہیں۔ اس یاد سے آپ تڑپ اٹھیں اور آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلیں کہ خدایا، تو نے دنیا میں میرے ساتھ ہر اعتبار سے خیر کا معاملہ فرمایا، اب تو آخرت میں بھی میرے ساتھ ہر اعتبار سے خیر کا معاملہ فرما۔ یہی دعائے اعظم ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ افراد جن کو اس طرح کی دعائے اعظم کی توفیق حاصل ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader