Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا کی دریافت دعا ایک دریافت ہے۔ انسان جب اپنے عجز اور دعا کی قدرت کی دریافت کرتا ہے تو اس کے بعد وفورِ جذبات کے تحت جو الفاظ اس کی زبان پر جاری ہوجاتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے۔ دعایہ ہے کہ آدمی کے ربانی تجربات الفاظ میں ڈھل جائیں۔ اس کا داخلی احساس، خارجی اظہار کی صورت اختیار کرلے۔ دعا کی تاثیر کا تعلق اس کے الفاظ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق خود دعا کرنے والے کے داخلی احساس سے ہے۔ مثال کے طور پر ایک انسان نے اپنے اوپر اللہ کے انعامات کو لے کر غور کیا۔ اس نے سوچا کہ اللہ نے مجھ کو وجود بخشا، میرے لیے ایک پورا لائف سپورٹ سسٹم پیدا کیا، میری ضرورت کی ہر چیز یک طرفور پر مجھے عطا کردی۔ ان باتوں کو سوچتے ہوئے اس کو موت کے بعد کا دور حیات یاد آیا۔ اس نے سوچا کہ آج جو نعمتیں مجھے ملی ہوئی ہیں، وہ سامان امتحان کے طور پر ہیں۔ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کیا ہوگا، وہ سب کا سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ ایک طرف اس نے اپنے عجز (helplessness) کو دریافت کیا، اور دوسری طرف اس نے اللہ کی قدرت کا ادراک کیا۔ ان باتوں کو سوچتے ہوئے وہ بے قرار ہو گیا اور اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ــ خدایا، تو اپنے فضل سے اپنی ان نعمتوں کو میرے لیے دنیا سے آخرت تک ممتد (extend) کردے۔ ایک ہے دعا اور دوسری چیز ہے ماقبل دعا (pre-dua)۔ حقیقی دعا اس وقت نکلتی ہے جب کہ اس کا ایک ماقبل موجود ہو۔ یہ ماقبل، دعا کرنے والے کا ایمانی تجربہ ہے۔ آدمی اپنے خالق اور مالک کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس سے اس کے دل و دماغ میں ایک روحانی حرکت پیدا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات میں ایک تموج برپا ہوتا ہے، اس کو ربانی حقیقتوں کا تجربہ ہونے لگتا ہے۔ اس کو محسوس ہوتا ہے کہ داخلی سطح پر اس کا ربط ایک حقیقتِ اعلیٰ (higher reality) سے قائم ہوگیا ہے۔ ــ یہ غیر ملفوظ کیفیت جب لفظوں کی صورت میں ظاہر ہو تو اسی کا نام دعا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page