ذکر و دعا
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
پوائنٹ آف ریفرنس سب سے بڑی دعا وہ ہے جو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کے ساتھ کی جائے، یعنی آپ پر ایک تجربہ گزرا۔ وہ تجربہ آپ کے لئے اللہ کی یاد کا ایک حوالہ بن گیا۔ اس وقت آپ کے اندر ایک روحانی تموج (spiritual storm) پیدا ہوا۔ پھر اس واقعہ کے حوالہ سے آپ کے اندر کچھ دعائیہ الفاظ نکلے۔ یہ پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ ایسی دعا بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر گرمی کا مہینہ ہے۔ آپ ایک شخص سے ملنے کے لیے اس کے یہاں جاتے ہیں۔ جب آپ اس کے یہاں پہنچتے ہیں تو وہ آپ کو عزت کے ساتھ بٹھاتا ہے اور شیشہ کے گلاس میں ٹھنڈا پانی آپ کو پیش کرتا ہے۔ آپ پانی پیتے ہیں۔ اس سے آپ کا سوکھا ہوا حلق تر ہو جاتا ہے۔ آپ کی پیاس بجھ جاتی ہے۔ اس تجربے کے بعد آپ کے اندر ایک روحانی بھونچال آتا ہے۔ آپ کہہ اٹھتے ہیں کہ خدایا! اسی طرح ایک دن میں تیرے پاس آنے والا ہوں۔ میں تیرے پیدا کئے ہوئے ایک انسان سے ملا تو اس نے مجھے ٹھنڈا پانی پیش کیا۔ تو جو کہ خالق ہے، کیا تو ایسا کرے گا کہ جب میں تجھ سے ملوں تو تو اپنے فرشتوں کو یہ حکم دے دے کہ اس کو کھولتا ہوا پانی پلاؤ۔ حقیقی دعا یاد کئے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، حقیقی دعا میں الفاظ کی حیثیت صرف علامت کی ہوتی ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو معرفت کی دعا ہو۔ حقیقی دعا وہ ہے جو خدائی دریافت کے بعد آپ کی زبان پر جاری ہو جائے۔ حقیقی دعا ایک اعلیٰ عبادت ہے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو بندے کو اس کے خالق (Creator) سے قریب کر دے۔ حقیقی دعا وہ ہے جو کسی بندے کے پورے وجود کا ایک اظہار بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader