Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بیرونی سفر میں مجھے ایک رات کے لیے فرینکفرٹ (جرمنی) کے ائر پورٹ پر ٹھہرنا پڑا۔ ائر پورٹ کی ایک خاتون کارکن نے کہا کہ آپ کے پاس جرمنی کا ویزا نہیں ہے، ورنہ ہم آپ کو شہر کے اندر کسی ہوٹل میں ٹھہرا دیتے۔ اُس نے ائر پورٹ کے ایک حصے میں مجھے پہنچایا۔ یہاں میں لیٹ سکتا تھا۔ پھر اس نے ایک ٹرے میں شام کا کھانا لا کر مجھے دیا اور ایک کمبل (blanket) بھی دیا اور کہا کہ یہاں آپ رات کو آرام کریں۔ صبح کو میں آ کر اگلی فلائٹ تک آپ کو پہنچا دوں گی۔ میں کھانے سے فراغت کے بعد کمبل اوڑھ کر وہاں لیٹ گیا۔ صبح کو مذکورہ خاتون دوبارہ آئی تو میں نے وہ کمبل اس کو واپس دینا چاہا۔ اس نے کہا: اس کو واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ واقعہ جب مجھ کو یاد آتا ہے تو وہ میرے لیے دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ـــــــــ خدایا، موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھے سب کچھ دے دیا، کیا موت کے بعد کی زندگی میں تو مجھ کو ہر چیز سے محروم کر دے گا۔ تیری رحمت جو موت سے پہلے کی زندگی میں مجھے حاصل تھی، اُس رحمت کو تو موت کے بعد کی زندگی میں بھی میرے لیے جاری رکھ۔ موت سے پہلے کی زندگی میں تو نے مجھے محرومی سے بچایا، موت کے بعد کی زندگی میں بھی تو مجھے محرومی سے بچالے۔ ایک انسان دی ہوئی چیز کو واپس نہیں لیتا، پھر تو جو خالق انسان ہے، کیسے یہ کر سکتا ہے کہ تو دی ہوئی چیز کو مجھ سے واپس لے لے۔ آدمی کے اندر اگر زندہ فکر موجود ہو اور اس کا شعور بیدار ہو تو زندگی کا ہر واقعہ اس کے لیے ذکر اور دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا، وہ ہر واقعہ کے حوالے سے خدا کو یاد کرنے لگے گا، ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا حوالہ بن جائے گا جس میں وہ دعا کے لیے نئے الفاظ پالے گا۔ اسی قسم کا ذکر اور دعا حقیقی معنوں میں ذکر اور دعا ہے۔ جو آدمی اس طرح کے احساسات میں جینے لگے، وہ گویا ایک ایسے درخت کی مانند ہے جس کی سرسبزی کبھی ختم نہ ہو، جو ابدی طور پر پھول اور پھل کی فصل دیتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page