ذکر و دعا
Urdu book, p. 329
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا ایک عبادت میں نے 1982 میں حج کیا۔ اس سفر میں ایک عرب پروفیسر بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم دونوں جدہ ایرپورٹ پر اترے اور پھر وہاں سے روانہ ہو کر مکہ پہنچے۔ مکہ پہنچ کر میرے عرب ساتھی کو اچانک معلوم ہوا کہ وہ اپنا ہینڈ بیگ جدہ میں ایرپورٹ پر چھوڑ آئے ہیں جس میں اُن کے بیس ہزار ریال تھے۔ اس کے بعد وہ مجھ کو مکہ میں چھوڑ کر دوبارہ جدہ کے لیے روانہ ہو گئے تا کہ وہاں اپنا کھویا ہوا ہینڈ بیگ تلاش کریں۔ ان کے جانے کے بعد میں نے دورکعت نماز پڑھی۔ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو میری زبان سے یہ الفاظ نکلے-خدایا، تو اس کو ہمارے لیے سبق بنا دے، تو اس کو ہمارے لیے نقصان نہ بنا۔ آدمی کو پوری کوشش کرنا چاہیے کہ وہ غلطی یا نقصان سے بچے، لیکن جب نقصان ہو جائے تو دوسری چیز جس سے آدمی کو بچنا چاہیے، وہ ہونے والے واقعہ پر غم اور افسوس ہے۔ جب ایک غلطی ہو جائے تو وہ گویا کمان سے نکلا ہوا ایک تیر ہے جو واپس نہیں آتا۔ ایسی غلطی کے لیے افسوس نہیں کرنا ہے، بلکہ اللہ سے دعا کرنا ہے کہ وہ اس کے بُرے انجام سے آدمی کو بچائے۔ غلطی نہ کرنا اچھا ہے، مگر غلطی کرنا بھی اس وقت اچھا بن جاتا ہے جب کہ غلطی کا احساس آدمی کو اللہ کی طرف متوجہ کر دے۔ وہ اپنے رب سے دعائیں کرنے لگے۔ ایسی غلطی آدمی کے لیے عبادت کا سبب بن جاتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دعا ایک عبادت هے: (الدعاء هو العبادة)۔ نقصان کے بعد اس پر غم کرنا گویا کھوئے ہوئے میں جینا ہے۔ اور نقصان کے بعد اللہ کی طرف رجوع ہو جانا گویا نقصان کے بعد اس کی بہتر تلافی کا طالب بننا ہے۔ اور بلا شبہ اللہ یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ آدمی کے نقصان کو دوبارہ عظیم تر فائدے میں تبدیل کر دے۔ ہر نقصان کے دو پہلو ہیں ۔ ایک، نقصان اور دوسرے، سبق۔ اگر کوئی نقصان ہو جائے، تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس سے سبق لے۔ اس طرح نقصان، فائدے میں تبدیل ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader