ذکر و دعا
Urdu book, p. 330
By Maulana Wahiduddin Khan
کائناتی شکر اکثر لوگوں کو آپ یہ کہتے ہوئے سنیں گے ــــ اللہ کا شکر ہے کہ شہر میں میرا ذاتی مکان ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے اولاد دی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا اپنا بزنس ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے پاس دو گاڑیاں ہیں، وغیرہ۔ اس قسم کا شکر چھوٹا شکر ہے۔ اس قسم کے شکر سے آپ کے اندر اللہ کے لیے شکر کا دریا جاری نہیں ہوسکتا، جب کہ خداوندِ برتر کے لیے وہ شکر مطلوب ہے جو دریائوں اور سمندروں کی طرح آپ کے سینے میں موج زن ہو جائے۔ اللہ کے لیے بڑا شکر کب پیدا ہوتا ہے۔ یہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ آپ کے اندر وسیع شکر (extended shukr) کا ذھن پیدا ہو جائے۔ اس معاملے میں آپ کی نظر صرف اپنی ذات پر نہ ہو، بلکہ آپ اپنے آپ کو انسان کے ساتھ ایسوسی ایٹ (associate) کر کے دیکھ سکیں۔ جب آپ کے اندر اس قسم کی نفسیات پیدا ہو جائے، اُس وقت آپ کے اندر وہ اعلیٰ شکر پیدا ہو گا جس کو آفاقی شکر یا کائناتی شکر (universal shukr) کہا جا سکتا ہے۔ ایک باپ کا بیٹا زیادہ ترقی کر جائے تو وہ اُس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، کیوں کہ وہ بیٹے کی ترقی کو خود اپنی ترقی سمجھتا ہے، حتیٰ کہ بیٹا اگر امریکا میں ترقی کر رہا ہے اور وہ خود انڈیا میں ہے، تب بھی وہ دور ہونے کے باوجود اپنے بیٹے کی ترقی کی خبر سن کر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دل میں اللہ کے لیے بڑا شکر پیدا ہو، تو آپ اپنی ذات کو پوری انسانیت کے ساتھ ایسوسی ایٹ کیجئے۔ ایسی حالت میں یہ ہو گا کہ دوسرے انسانوں کی ترقی آپ کو خود اپنی ترقی نظر آنے لگے گی۔ ذاتی نعمت پر اگر آپ کے اندر ایک درجے کا شکر پیدا ہوا تھا، تو پوری انسانیت کے ساتھ اپنے آپ کو ایسوسی ایٹ کرنے کی شکل میں یہ ہوگا کہ بلین ٹریلین (billion, trillion) درجے میں آپ کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔ پہلے اگر آپ کے سینے میں شکر کا ایک قطرہ تھا، تو اب آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے سینے میں شکر کا سمندر موج زن ہو گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader