ذکر و دعا
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
لامحدود عطیات ایک پروفیسر صاحب نے خوش خبری کے انداز میں بتایا کہ میری ملازمت کی مدت پوری ہوگئی تھی اور اب میں ریٹائر ہونے والا تھا، لیکن یونی ورسٹی نے مجھے دو سال کا ایکسٹنشن (extension) دے دیا۔ اب میری سروس مزید دو سال جاری رہے گی۔ میں نے جب توسیع (extension) کی یہ خبر سنی تو وہ میرے لیے دعا کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن گئی۔ میں نے کہا کہ ــــ خدایا، تو نے مجھے پیدا کیا اور ایک طرفہ عطیہ کے طور پر زندگی کے تمام سامان مجھے دے دئے۔ موت ان عطیات کی مدت کو ختم کر دے گی، لیکن اگر تو چاہے تو اپنی رحمت سے اس اعطاء (grant) میں مزید توسیع کر دے۔ انسان صرف محدود توسیع کر سکتا تھا، اس نے محدود توسیع کر دی، لیکن تو رب العالمین ہے، تو اگر چاہے تو لامحدود توسیع (unlimited extension) کر دے، تو اپنے اعطاء کو میرے لیے ابدتک جاری رکھے۔ آدمی واقعات اور تجربات کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ اگر وہ غور کرے اور اپنے ذہن کو بیدار رکھے تو ہر واقعہ اور ہر تجربہ اس کے لیے روحانی غذا (spiritual bood) کا ذریعہ بن جائے گا۔ وہ ہر واقعہ اور ہر تجربے میں ایسے پوائنٹ آف ریفرنس پالے گا جس کے حوالے سے وہ اعلیٰ ذکر کر سکے اور اس کی زبان پر اعلیٰ دعا کے الفاظ جاری ہو جائیں۔ جس طرح کتاب کا مطالعہ آدمی کے لیے روحانی غذا کا ذریعہ ہے، اسی طرح واقعات اور تجربات میں بھی اس کے لیے روحانی غذا کا سامان موجود ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرلے، اس کی زندگی کا سفر ایک ایسی روحانی ترقی (spiritual development) کا ذریعہ بن جائے گا جو موت سے پہلے کبھی ختم نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader