ذکر و دعا
Urdu book, p. 331
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی نعمتوں کی دریافت خدا کی طرف سے انسان کو بے شمار نعمتیں دی گئی ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کا اعتراف کرے۔ نعمتوں کے اسی اعتراف (acknowledgement) کا نام شکر ہے۔ شکر بلاشبہ سب سے بڑا دینی عمل ہے، اور شکر نہ کرنا سب سے بڑی بے دینی۔ خدا کی یہ نعمتیں اعلان کے ساتھ نہیں آتیں۔ مثال کے طور پر خدا کی طرف سے آکسیجن کی عالمی سپلائی ہر لمحہ جاری رہتی ہے، مگر اعلان کی زبان میں کبھی انسان کو اُس سے باخبر نہیں کیا گیا۔ اِس طرح کی بے شمار خدائی نعمتیں ہیں، جو ہر لمحہ انسان کو پہنچ رہی ہیں، مگر یہ سارا عمل اعلان کے بغیر ہو رہا ہے۔ ایسی حالت میں کس طرح ایسا ہو کہ انسان حقیقی شکر یا حقیقی اعتراف کی عبادت انجام دے۔ اس کا طریقہ صرف ایک ہے ــــ اور وہ یہ کہ انسان مسلسل غور وفکر (contemplation) کے ذریعے خدا کی نعمتوں (blessings) کو دریافت کرتا رہے۔ شکر سے پہلے نعمتوں کی دریافت (discovery of blessings) ہے، جو آدمی دریافت سے محروم ہو، وہ یقینی طور پر شکر سے بھی محروم رہے گا۔ اسی لیے روایات میں، تدبر اور تفکر کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لا عبادة كتفكر ( شعب الايمان للبيهقي ، حديث نمبر 4647) یعنی تفکر جیسی کوئی عبادت نہیں۔ تفکر کا مطلب ہے سوچنا۔ سوچنے کا عمل دماغ میں ہوتا ہے۔ انسان کے تمام اعمال کا سرچشمہ دماغ ہے۔ کوئی آدمی جتنا زیادہ سوچے گا، اتنا ہی زیادہ وہ گہرے معانی کو دریافت کرے گا۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ کوئی شخص سوچ ہی کے ذریعے خدا کی بے پیاں نعمتوں کو دریافت کرتا ہے۔ اسی دریافت کے بعد آدمی کے اندر شکر کا سر چشمہ جاری ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جتنی بڑی دریافت اتنا بڑا لشکر ــــ تفکر (contemplation) سے آدمی دریافت (discovery) تک پہنچتا ہے اور دریافت سے شکر عظیم تک۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader