Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا عبادت ہے دعا کے معنی ہیں پکارنا۔ یہ لفظ جب شرعی اصطلاح کے طور پر بولا جائے تو اُس کا مطلب ہوگا اللہ کو پکارنا، اللہ سے التجا کرنا۔ یہ دعا ایک عظیم عبادت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ’اِنّ الدعاء ھو العبادۃ‘ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3828) یعنی بے شک دعا ہی عبادت ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدعاء مخ العبادۃ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3371) یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ دعا کا عبادت ہونا بتاتا ہے کہ دعا ایک ذاتی نوعیت کا عمل ہے۔ ہر آدمی کو اپنی دعا آپ کرنا ہے، جس طرح ہر آدمی اپنی عبادت آپ کرتا ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ تم میری طرف سے نماز پڑھ دو، اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میرے لیے دعا کرو۔ قرآن کی سورہ السجدہ میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (32:16) یعنی وہ لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف کے ساتھ اور امید کے ساتھ۔ کسی آدمی کا اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارنا ایک انتہائی قسم کا ذاتی عمل ہے۔ یہ دعائیہ واقعہ کسی آدمی کے دل کی انتہائی گہرائیوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اس قسم کی دعا ایک آدمی کو خود کرنا ہے۔ وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی دوسرے شخص سے کہے کہ تم میری طرف سے خوف کر لینا یا میری طرف امید کر لینا۔ اس قسم کی دعا کسی انسان کے لیے اس کی عبدیت کا معیار ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھنے کا مدعی ہو اُس کی زندگی میں ایسے لمحات آنے چاہئیں جب کہ اُس کی روح اللہ کی یاد سے تڑپ اٹھے۔ اُس کے دل و دماغ میں اللہ کے تصور سے زلزلہ پیدا ہو جائے ۔ اُس کے سینے میں تعلق باللہ کا سیلاب اُمڈ پڑے اور پھر اس زلزلہ خیز کیفیت کے ساتھ وہ سراپا التجا بن کر اللہ سے دعا کرنے لگے۔ جس آدمی کے اندر یہ کیفیت پیدا نہ ہو، اُس کا ایمان ہی اللہ کے نزدیک غیر معتبر ہو جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ: من لم يسأل الله يغضب عليه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3373) یعنی جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اُس پر غضب ناک ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page