ذکر و دعا
Urdu book, p. 341
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا ایک ایسا لطیف عمل ہے جو براہ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش آتا ہے۔ اس عمل کے دوران کوئی تیسرا شخص موجود نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بہترین دعاوہ ہے جو تنہائیوں میں کسی بندہ خدا کے سینے سے ابلتی ہے۔ ایک روایت میں جنتی انسان کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے: ذکر الله خاليا ففاضت عيناه (صحیح البخاری، حدیث نمبر 660) یعنی وہ شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور پھر اُس کی دونوں آنکھیں بہہ پڑیں۔ ان نصوص کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دعا انتہائی ذاتی نوعیت کا ایک لطیف عمل ہے۔ وہ ہر مدعی ایمان کے لیے اُس کی ربانیت کا اظہار ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ دعا ایسی چیز نہیں کہ آپ کسی مفروضہ بزرگ سے مل کر کہیں کہ آپ میرے لیے دعا کر دیجیے۔ اس قسم کی درخواست بلاشبہ دعا کی تصغیر ہے۔ یہ گویا اللہ کی طرف دوڑنے کے بجائے انسان کی طرف دوڑنا ہے۔ اسی طرح لاؤڈ اسپیکر پر دعا کرنا بھی ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ اس قسم کا مکبرانہ فعل ایک تقریر ہے نہ کہ دعا۔ حتی کہ یہ بھی حقیقی دعا نہیں کہ آپ کچھ الفاظ کورٹ لیں اور ہر بار ان رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرادیں۔ دعا، اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی تڑپ کا ایک عمل ہے، وہ رسمی الفاظ کے کسی مجموعے کا نام نہیں۔ صحیح البخاری میں کتاب الایمان کے تحت ایک باب کا ترجمہ باب ان الفاظ میں قائم کیا گیا ہے: دعاؤ کم ایمانکم (تمھاری دعا تمھارا ایمان ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسا ایمان ویسی دعا۔ دعا ایمان کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ اگر آدمی کو گہرا ایمان حاصل ہوا ہے تو اس کی دعا بھی دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی ایک ربانی آواز ہوگی۔ وہ جب دعا کرے گا تو اس کا پورا وجود اس کی دعاؤں میں شامل ہو جائے گا۔ دعا اس کے لیے اپنے رب سے ملاقات کا لمحہ بن جائے گی۔ اس کی دعا اپنے رب سے سرگوشی (whisper) کے ہم معنی ہوگی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: يناجي ربه (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1258)۔ اس کے برعکس، جس کا ایمان قلب میں اترا ہو نہ ہو بلکہ صرف لفظی اقرار کے ہم معنی ہو، اس کی دعا بھی صرف لفظی اور رسمی دعا ہوگی۔ وہ کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرائے گا مگر ان الفاظ کا اس کی قلبی کیفیات سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس کی دعا صرف تلفظ لسانی کے ہم معنی ہوگی نہ کہ روحانی کیفیت کے اظہار کے ہم معنی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader