Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے : رُب أشعث مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأبره (صحيح مسلم، رقم الحديث 6848) یعنی بہت سے لوگ ہیں جن کے بال بکھرے ہوئے ہیں، جن کے کپڑے گرد آلود ہیں، جن کے اوپر لوگوں کے دروازے بند ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو اللہ اُن کی قسم کو پورا کرے گا۔ اس حدیث میں اُس انسان کی تصویر بتائی گئی ہے جو اللہ کے کام میں اتنا زیادہ مشغول ہوا کہ اُس کو بال اور کپڑے کا اہتمام کرنے کی بھی فرصت نہ رہی۔ جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے کام میں اس طرح وقف کر دیں اُن کا معاملہ اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ وہ جب کسی چیز کے لیے دعا کرتے ہیں تو وہ ایک ایسی چیز کو مانگنا ہوتا ہے جس کی قبولیت کا فیصلہ پیشگی طور پر کیا جا چکا ہے۔ یہ دعا کوئی سادہ چیز نہیں ہے، یہ مومن کے لیے ایک عجیب سرمایہ ہے۔ دعا کے سرمایہ ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً کسی شخص کے خلاف آپ سے کوئی ایسی غلطی ہو گئی جس کی تلافی کی کوئی اور صورت نہ ہو تو آپ اُس کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہیں کہ اے اللہ، تو میری طرف سے اُس کے حق میں دعائے خیر لکھ دے۔ آپ کے اوپر کسی کا احسان ہے اور آپ اُس کے احسان کا بدلہ نہ دے سکتے ہوں تو آپ اُس کے حق میں بہترین دعائیں کریں۔ آپ کسی معذوری کی بنا پر کوئی دینی کام نہ کرسکیں تو آپ اُن لوگوں کے لیے اللہ کی مدد کی دعا کریں جو اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے دل میں کسی کے خلاف شکایت آجاۓ تو آپ اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ آپ کے دل سے شکایت کو نکال دے اور اُس کی جگہ خیر خواہی کے جذبات رکھ دے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کو سمجھنے میں اُنھیں مشکل پیش آتی تو وہ وضو کر کے کسی ویرانے میں چلے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ سے یہ کہتے کہ اے ابراہیم کو علم دینے والے، مجھے بھی علم دے دے (يا معلم إبراهيم علمني) (المستدرک علی مجموع الفتاوى، 5/150)۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا ہر مشکل کے وقت مومن کا سہارا ہے۔ وہ ہر مشکل مسئلے کا حل ہے۔ دعا بلاشبہ ایک طاقت ہے، سب سے بڑی طاقت۔ دعا اللہ سے ملاقات کا لمحہ ہے۔ مگر یہ لمحہ غافل لوگوں کے حصے میں نہیں آتا۔ یہ قیمتی لمحہ صرف اسی انسان کے لیے مقدر ہے جو اپنے دل کے اندر اعلیٰ ربانی کیفیت کو بیدار کر چکا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page