Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 348

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر کمال درجے میں معنویت (meaning) پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی معنویت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اُس کا خالق ایک ذہن (mind) ہو۔ چناں چہ سائنس میں خدا کا نام نہ لیتے ہوئے یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا ایک ذہین نقاش (intelligent designer) ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، ستمبر 2007، سائنس اور الہیات)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسے خدا کا تصور پیدائشی طور پر موجود ہے، جو متنوع صفات کا حامل ہو۔ اس طرح سائنسی مطالعے میں کائنات اگر چہ آخری طور پر ایک ہی یونٹ (atom) کا مختلف ظہور ہے، لیکن یہ ایٹم حیرت انگیز طور پر مختلف اور متضاد قسم کی معنیٰ چیزوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ انسانی فطرت اور خارجی کائنات، دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کائنات میں ایک طرف بہت زیادہ اختلاف اور تنوع ہے اور دوسری طرف کائنات کے مختلف اجزا میں غیر معمولی ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں انسان کا ذہن یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کی متنوع حیثیتوں کا تصور کر سکے۔ قرآن میں مذکور اسماء حسنیٰ اسی سوال کا جواب ہیں۔ خدا کا فزیکل ماڈल خدا کا عقیدہ انسان کے اندر ہمیشہ سے پایا گیا ہے۔ اینتھر اپالوجی (anthropology) کے تحت جو مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسانی سماج کسی نہ کسی اعتبار سے خدا کو مانتا رہا ہے۔ خدا کا عقیدہ فلسفیوں کے یہاں بھی پایا گیا ہے اور اہل مذاہب کے یہاں بھی۔ لیکن فلسفہ اور مذہب دونوں میں خدا کا عقیدہ ایک بے صفات خدا (attributeless God) کی حیثیت سے پایا جاتا رہا ہے، یعنی کا سمک ریز (cosmic rays) یا زمین کی قوت کشش (gravity) کی مانند۔ لیکن مجرد خدا (abstract God) انسان کی ذہنی گرفت میں نہیں آتا۔ انسان خدا کا ایک ایسا ماڈل بنانا چاہتا ہے، جس میں وہ خدا کو صفات کی اصطلاحوں (in term of attributes) میں قابل فہم بنا سکے۔ انسان کی یہی ضرورت ہے جس کے غیر فطری اظہار کے نتیجے میں بت وجود میں آئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page