اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 349
By Maulana Wahiduddin Khan
آئے۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ الفاظ یا ناموں کے ذریعے کسی حقیقت کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ اس طرح مختلف بت، انسان کو مختلف الفاظ یا نام دے دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ بزعم خود ایک ماڈل کے روپ میں خدا کا ادراک کرتا ہے۔ انسان نے اپنی اسی فطری ضرورت کو پورا کرنے کے لیے غلط طور پر بت بنائے اور ان کی پرستش شروع کر دی۔ لیکن بتوں کی شکل میں خدا کا ماڈل بنانا، ایک بے بنیاد قیاس ہے، کیوں کہ خدا کو بتوں کا روپ دینا ایک لا محدود ہستی کو محدود روپ دینا ہے، یہ خدا کا ایک بگڑا ہوا فارم ہے۔ یہ خدا کے نام پر خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ بت چوں کہ مٹی یا پتھر کے ہوتے ہیں اور انسان خود ان بتوں کو بناتا ہے۔ خدا کو بتوں کی شکل دینے کے باوجود ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف مٹی اور پتھر ہیں، اُن کے اندر کوئی ذاتی طاقت نہیں۔ اس لیے بتوں کی سطح پر خدا پرستی عملاً صرف ایک بے روح رسم بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بتوں سے قلبی ربط قائم کر سکے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ رسمی اعمال، خدا پرستی کی جگہ لے لیتے ہیں۔ آدمی خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح رسموں، مثلاً پھول چڑھانے یا نذر و نیاز دینے کو خدا پرستی کے لیے کافی سمجھ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ آدمی خدا کے نام پر بتوں سے قریب ہوتا ہے، لیکن بتوں کی طرف سے جوابی طور پر اس کو کوئی انسپریشن (inspiration) نہیں ملتا، انسان داخلی طور پر اپنے لیے کوئی روحانی غذا نہیں پاتا، اس لیے بتوں کا کلچر محض ایک بے روح تعلق بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں سے قربت کے با وجود انسان کو اتنی بھی روحانی کیفیت نہیں ملتی جتنا کہ ایک باپ یا ماں کو اپنے بچے سے مل کر حاصل ہوتی ہے۔ انسان ایک با روح شخصیت ہے۔ اپنی اس فطرت کے اعتبار سے اس کو ایک با روح خدا درکار ہے۔ پتھر کی مورتی سے اس قسم کا روحانی تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ روحانی تعلق دو طرفہ تعلق کا نام ہے۔ ہمارے اندر کیفیات ہوں، لیکن دوسری طرف سے اس کا جواب نہ ملے تو اس قسم کا ایک طرفہ تعلق صرف اوپری یا غیر فطری ہوگا، وہ انسان کی زندگی میں کوئی حقیقی درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader