معرفت الہی
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہنی ارتقا ذہنی ارتقا (intellectual development) بلا شبہ کسی انسان کی سب سے زیادہ اہم ضرورت ہے۔ ذہنی ارتقاہی کے ذریعہ ایک انسان کامل بنتا ہے۔ ذہنی ارتقاہی کے ذریعے ایک شخص اپنی بالقوہ (potential) صلاحیتوں کو بالفعل (actual) بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ذہنی ارتقاہی کے ذریعے آدمی حیوانیت کے درجے سے بلند ہو کر انسانیت کے درجے تک پہنچتا ہے۔ ذہنی ارتقاہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کا مطلوب بندہ بن سکے۔ ذہنی ارتقا کوئی نئی چیز نہیں، یہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ازدیاد ایمان (الفتح، 4:48) کا لفظ آیا ہے۔ ایمان کا آغاز حقیقت کی دریافت سے ہوتا ہے۔ حقیقت کوئی محدود چیز نہیں، وہ لامحدود حد تک وسیع ہے۔ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے حقیقت کی کائناتی وسعتوں میں اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔ یہ سفر نئی نئی دریافتوں کے ساتھ مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس سفر کا آغاز ہے، لیکن اس سفر کا کوئی خاتمہ نہیں۔ گویا کہ یہ ایک پراسس (process) ہے۔ ازدیاد ایمان اور ذہنی ارتقا دونوں اسی پراسس کے دو نام ہیں۔ یہ دونوں نام الفاظ کے اعتبار سے الگ ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ ایمان، ازدیاد کے بغیر ایک جامد ایمان ہے، لیکن ازدیاد کے ساتھ ایمان لامناہی معنوں میں ایک زندہ چیز بن جاتا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے بعد فوراً ہی اس کا جسمانی ارتقا (physical development) شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ارتقائی عمل ایک بچے کو بڑا انسان بنا دیتا ہے۔ یہی معاملہ ذہنی ارتقا کا ہے۔ ذہنی ارتقا بھی پیدائش کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ جسمانی ارتقا کی ایک معلوم حد ہے، لیکن ذہنی ارتقا کی کوئی معلوم حد نہیں۔ حقیقت کی حد کبھی ختم نہیں ہوتی، اسی طرح ذہنی ارتقا کی حد بھی کبھی ختم نہ ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader