معرفت الہی
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل ، فطرت ہر انسان کی پہلی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے ، اِس معرفت سے بڑی کوئی چیز دنیا میں نہیں ۔ اس معرفت کے حصول میں عقل کا حصہ ففٹی پرسنٹ ہے اور فطرت کا حصہ ففٹی پرسنٹ ۔ دونوں میں سے کوئی بھی آزادانہ طور پر معرفت کے حصول کے لئے کافی نہیں۔ معرفت ایک پراسس (process) ہے، اِس پراسس میں پہلا مرحلہ تلاش کا ہوتا ہے، تلاش کا یہ سفر عقل کی رہنمائی میں طے ہوتا ہے، مگر عقل اپنے آپ میں کافی نہیں۔ عقل آدمی کو جہاں تک پہنچاتی ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے ۔ عقلی غور وفکر کے ذریعے آدمی نظری اعتبار سے اِس ظن غالب تک پہنچ جاتا ہے کہ خدا کا وجود ہے ۔ اس کے آگے کا درجہ یقین (conviction) ہے، اور عقل تنہا کسی شخص کو اِس معاملے میں یقین تک نہیں پہنچاتی۔ اِس معاملے میں یقین تک پہنچنے کا واحد ذریعہ فطرت ہے۔ فطرت ہر انسان کو پیدائشی عطیہ کے طور پر ملتی ہے۔ خالق نے انسانی فطرت کے اندر اپنا شعور پوری طرح پیوست کر دیا ہے ، ٹھیک اسی طرح جس طرح ماں کی محبت ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر پیوست ہے۔ عقل کے ذریعے آدمی نظری معرفت تک پہنچتا ہے ، اور فطرت کے ذریعے یقینی معرفت تک۔ یہ فطرت ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے ، فطرت ہر آدمی کے لئے یقین کے حصول میں مددگار بن سکتی ہے ، لیکن عملاً یہ ہوتا ہے کہ انسان طرح طرح کے ڈسٹریکشن (distraction) میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ڈسٹریکشن اس کی فطرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح آدمی کی فطرت اپنا اصل کام نہیں کر پاتی ۔ موجودہ زمانے میں ڈسٹریکشن کے اسباب بہت بڑھ گئے ہیں۔ مثلاً موبائل ، شاپنگ، پارٹیاں ، خاندانی فنکشن، معاشی مصروفیت ، وغیرہ ۔ موجودہ زمانے میں لوگ عام طور پر خدا کی سچی معرفت سے محروم ہیں۔ خدا اُن کے لیے ایک رسمی عقیدہ ہے، نہ کہ ایک دریافت ۔ اس کا سبب یہی ڈسٹریکشن ہے۔ معرفت کی قیمت یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے پوری طرح بچائے۔ اس لازمی قیمت کو ادا کیے بغیر کسی بھی شخص کو خدا کی معرفت ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader