Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 350

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ ایک اور شدید تر خرابی پیدا کرتا ہے، وہ یہ کہ بت کلچر آخر میں جھوٹ کلچر یا ظاہر داری کلچر بن کر رہ جاتا ہے۔ بتوں کے اندر خدائی اوصاف ثابت کرنے کے لیے فرضی کہانیاں بنائی جاتی ہیں اور ان کو خوب شہرت دی جاتی ہے، تاکہ بتوں کا جو فائدہ حقیقی طور پر نہیں ملا، اُن کے بارے میں لوگوں کو یہ فرضی تاثر دیا جائے کہ وہ حاصل ہوئے، یا وہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ بت پرستی کا یہی ظاہر ہ (phenomenon) قبر پرستی کی دنیا میں بھی نظر آتا ہے۔ قبر پرست لوگ صاحبِ قبر کے نام پر انتہائی بے بنیاد قسم کی فرضی کہانیاں وضع کرتے ہیں۔ وہ جھوٹے خوابوں کا طلسم بناتے ہیں اور پھر ان فرضی کہانیوں اور فرضی خوابوں کو اس طرح پھیلاتے ہیں جیسے کہ وہ سچ مچ واقعہ ہوں۔ اس طرح اصنام کلچر اور درگاہ کلچر انسان کو دیوالیپَن کی حد تک اعلیٰ اخلاق سے دور کر دیتا ہے۔ انسان عین اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے ایک جذباتی وجود ہے۔ جذبات کا تفرق (diversification) ممکن نہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے جذبات کا کوئی ایک مرکز چاہتا ہے۔ جذبات کا کئی مرکز ہونا ایک غیر فطری بات ہے جو عملاً ممکن نہیں۔ بت پرستی اس معاملے میں بھی انسانی نفسیات سے ٹکرا جاتی ہے۔ فطری طور پر انسان کسی ایک ہی چیز سے جذباتی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ بت پرستی کے مذہب میں چوں کہ یہ مراکز متعدد ہو جاتے ہیں، اس لیے اس کا عملی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حقیقی خدا پرستی سرے سے ختم ہو جاتی ہے۔ خدا پرستی کے نام پر کچھ بے روح مظاہر باقی رہتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ایک مثال کسی ماں کا بچہ اپنی ماں سے دور ہو تو اِس کی ماں ایسا نہیں کرے گی کہ وہ مٹی یا پتھر کے ذریعے اپنے بچے کی مورتی بنائے اور اِس پر صبح و شام پھول چڑھائے، یا وہ اپنے بچے کے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے اِس کی کئی مورتیاں بنائے اور اِن مورتیوں کے آگے وہ مختلف رسمیں ادا کرے۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اس طرح اُس کو اِس کے جذبات کی تسکین نہیں ملے گی۔ اپنے بچے کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی ماں ایسا کرے تو اُس کے لیے اپنے بچے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page