اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں۔ آکار ماڈل، دوسرے لفظوں میں بت کا ماڈل، ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا بظاہر ایک فارم تو ہے، مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی (powerless) ہے۔ دوسری طرف، نراکار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت، کشش ارض (gravity) کی طرح بے صفاتی (attributeless) ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل، انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں، وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء حسنی دراصل اسی خلا کو پر کرتے ہیں۔ اسماء حسنی: تلاش فطرت کا جواب اسماء حسنی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (seeking animal) ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذات اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اُس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اُس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔ اسماء حسنی دراصل اسی سوال کا جواب ہیں۔ اسماء حسنیٰ کا مطلب ہے، صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسماء حسنیٰ کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اُس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔ چناں چہ جب کوئی انسان ان اسماء حسنیٰ کو اُن کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اُس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اُس کا تعارف اُس کو اسماء حسنیٰ کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام ’الغنیٰ‘ ہے۔ غنی کے لفظی معنیٰ بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد جب انسان اسماء حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اُس کا غنی ہونا ہے، تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader