Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اُس کو اُس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے : یٰاَیُّھَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَى اللَّہِ وَاللَّہُ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (35:15)۔ یعنی اے لوگو تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے۔ اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے پانی غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔ انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو ان تمام ضروری چیزوں کو اُس کے لیے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اُس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس محسن اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے، وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اُس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسماء حسنیٰ میں اُس کو رہ نمائی ملتی ہے۔ خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام ’الرَّزّاق‘ ہے۔ انسان جب خدا کو رَزّاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اچانک اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی طلب کا جواب پالیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّہَ ھُوَ الرَّزّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنِ۔ یعنی بے شک، اللہ ہی رزق دینے والا، زور آور، زبردست ہے (51:58)۔ اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا جس میں انسان کو زندگی گزارنا ہے، وہ اس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اُس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تممنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تممناؤں کے زیر اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ہر انسان یہ سوچتا ہے کہ کیسے وہ اپنی غلطیوں کے احساس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page