اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے آپ کو بچائے۔ کس طرح ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو ایک پاکیزہ روح کا درجہ دے سکے۔ یہاں اسماء حسنیٰ میں وہ اپنے لیے تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام ’الغفور‘ ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہ نما ہے: قُلْ یا عبادیَ الَّذینَ أسرفوا علی أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله، إن الله يغفر الذنوب جمیعاً، إنه هو الغفور الرحيم (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ پوائنٹ آف ریفرنس قرآن میں خدا کے جو اسماء حسنیٰ بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ہر نام ہم کو غوروفکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہ نمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کر سکیں اور اُس کی مختلف صفات (attributes) کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کر سکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لیے تمام اچھے نام ہیں، اُس کے بعد فورا یہ ارشاد ہوا ہے — پس تم انھیں اچھے ناموں سے خدا کو پکارو، اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو، جو خدا کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں (7:180) ، یعنی اُنھیں ناموں کے ذریعے خدائے کامل الصفات کا تصور قائم کرو، نہ کہ اُن ناموں کے ذریعے جو دوسروں نے خود ساختہ طور پر بنا لیے ہیں۔ خدا کیا ہے۔ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز (helplessness) کی تلافی ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجز مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادر مطلق۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقعے پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسماء حسنیٰ اس کام میں انسان کے لیے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader