Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب کی زبان سے بخوبی واقف ہو، لیکن اگر نامہ بر کبوتر، ٹیلی گراف، ٹیلی فون اور موبائل جیسی چیزوں کو اُس نے دیکھا نہ ہو تو وہ اِن چیزوں کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہ جان سکے گا۔ اِس قسم کی کوئی کتاب ایک واقف کار انسان کے لیے ایک معلوماتی کتاب ہے، لیکن ایک ناواقف انسان کے لیے وہ صرف ایک معّما بن کر رہ جائے گی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اسماءِ حسنیٰ کا ہے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ، قرآن اور حدیث میں نام بہ نام بتا دیے گئے ہیں، لیکن اُن ناموں کو قرآن اور حدیث میں پڑھ لینا کافی نہیں۔ قرآن اور حدیث میں بیان ہونے کے باوجود یہ تمام نام کسی انسان کے لیے ایک نامعلوم چیز کی دریافت (discovery) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی آدمی ان ناموں کی حقیقت کو صرف اُس وقت جان سکتا ہے، جب کہ اِس سے پہلے وہ ذاتی دریافت کی سطح پر اِن کا علم حاصل کر چکا ہو۔ ذاتی دریافت کے بغیر یہ نام کسی آدمی کے لیے صرف رسمی نام ہوں گے، نہ کہ معرفتِ خداوندی کا خزانہ۔ اسمِ اعظم اسماءِ حسنیٰ کے ذیل میں ایک بحث یہ ہے کہ کیا خدا کا کوئی اسمِ اعظم ہے، اور اگر ہے تو وہ کیا ہے۔ اسمِ اعظم کے متعلق مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اِس سلسلے میں مسند امام احمد ابن حنبل کی دو روایتیں یہاں نقل کی جاتی ہیں : 1۔ عن انس بن مالک أنّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سمع رجلاً يقول: اللهم إني أسألك أن لك الحمد، لاإله إلا أنت وحدك، لا شريك لك، المنّان، بديع السموات والأرض، ذا الجلال والإكرام۔ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لقد سألتَ الله بِإسمِ اللهِ الأعظم، الذى إذا دُعى به أجاب، وإذا سُئل به أعطى ( مسند احمد، حدیث نمبر 12205)۔ ترجمہ : انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ : اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ تیرے ہی لیے حمد ہے۔ تو ہی اللہ ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو بڑا احسان کرنے والا ہے۔ زمین اور آسمان کو کسی نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page