اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 361
By Maulana Wahiduddin Khan
عزت اور کبریائی والا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ کو اُس کے اِس اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا، جس کے ساتھ اِس کو پکارا جائے تو وہ ضرور پکار کا جواب دیتا ہے، اور جب اُس کے ساتھ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے۔ 2- عن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلاً يقول اللهم إنى أسئلك بأنى أشهد أنك أنت الله، الذى لا إله إلا أنت، الأحد الصمد، الذى لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفوأ أحد، فقال: قد سألت الله بإسم الله الأعظم، الذى إذا سئل به أعطى، وإذا دعى به أجاب (مسند احمد، حدیث نمبر 22965)۔ ترجمہ: عبداللہ بن بُریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: اے اللہ، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی الہ نہیں۔ تو اکیلا ہے، تو بے نیاز ہے۔ تو نے نہ کسی کو جینا اور نہ تجھے کسی نے جنا۔ اور تیرے برابر کوئی نہیں۔ یہ سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اُس کے اِس اسمِ اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے، جس کے ساتھ اِس سے مانگا جائے تو وہ ضرور عطا کرتا ہے ۔ اور جب اِس کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ ضرور اِس کو قبول کرتا ہے۔ دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اِس کے اور کئی صفاتی نام آئے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہوسکتا۔ اگر اسمِ اعظم کوئی ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف وہی ایک نام ہوتا، جب کہ اس دعا میں واضح طور پر خدا کے کئی نام ہیں۔ اس واضح اشارے کے باوجود اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھنا اور اُسی ایک نام کی تلاش میں لگے رہنا، بلاشبہ ایک غلطی ہوگی۔ اسمِ اعظم کسی لفظِ اعظم کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ معنیِ اعظم کا نام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے، بلکہ وہ خصوصی کیفیت کے ساتھ خدا کو پکارنے کا نام ہے۔ اسمِ اعظم سے مراد، اسمِ اعظم نہیں ہے بلکہ کیفیتِ اعظم ہے۔ مذکورہ دعا میں صحابی نے کسی رٹے ہوئے دعائیہ لفظ کو استعمال نہیں کیا، بلکہ جذبات کے وفور میں ان کی زبان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader