اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 365
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ اس قسم کی دعا، خدائی الہام کے تحت ہوتی ہے اور جو دعا خدائی الہام کے تحت انسان کے دل سے نکلے، اُس کا معاملہ وہی ہوتا ہے جس کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: اجابت از در حق بہر استقبال می آید مقبول دعا حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے، نہ کہ محض زبانی الفاظ سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں۔ مانگना وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو: خدایا! مجھے اپنا بنالے، مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں، اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی، خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے، آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے، آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بھری ہوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرا رہے ہوں، مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا، جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader