اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 366
By Maulana Wahiduddin Khan
سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا، میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی۔ بخدا، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے " کون ہے جو مجھ سے مانگے، تا کہ میں اسے دوں، مگر جنھیں لینا ہے وہ اس سے غافل بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔ دعا کی طاقت حدیث میں آیا ہے کہ: لا یرد القضاء إلا الدعاء (الترمذی، حدیث نمبر 2139) یعنی قضا اور قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے اور خدا کے قائم کردہ نظام اسباب وعلل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص، اُس کو بہر حال اس نظام کو بھگتنا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ دعا کا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے اور اُس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کرکے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا اور قدر کو بدل دیتی ہے۔ لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے، حتی کہ قرآنی دعائیں یا ماثور دعائیں بھی اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ نظامِ قضا کو بدلنے کے لیے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے، جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے، جو انسانی شخصیت میں ایک بھونچال کے بعد ظہور میں آتی ہے۔ اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے۔ ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعا نہیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق ، قابل قبول ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader