اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 370
By Maulana Wahiduddin Khan
مانگنا۔ دوسری دعا وہ ہے جس کو سپر دعا کہا جا سکتا ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس کو پکارنے والا ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں پکارتا ہے کہ وہ خود خدا کے لیے، بلا تشبیہہ، اُسی طرح ایک ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے، جس طرح وہ دعا کرنے والے کے لیے ایک ذاتی مسئلہ تھا۔ پہلی دعا اگر روایتی دعا (traditional dua) ہے تو دوسری دعا تخلیقی دعا (creative dua) ہے۔ انگریزی میں پہلی قسم کی دعا کو ریکویسٹ (request) کرنا کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کی دعا کو انووک (invoke) کرنا، جیسے کہ کہا جائے: The Almighty God was invoked by his call. دعا اور اسمِ اعظم کی دعا میں یہی فرق ہے۔ دعا عام قسم کی ایک دعا ہے، اور اسمِ اعظم کی دعا گویا کہ ایک سپر دعا۔ اس معاملے کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہم ایک واقعہ پیش کرتے ہیں۔ ایک واقعہ رام پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ۔ میرے لیے ایک بائیسکل خرید دیجئے۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائیسکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا، اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خرید سکتا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا، ورنہ میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد وہ روتے ہوئے بولا آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ۔ اس جملے نے باپ کو توڑ پا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: اچھا بیٹے اطمینان رکھو، میں تمھارے لیے بائیسکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے ۔ اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے ایک نئی بائیسکل خرید دی ۔ لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader