Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی اسم، اُس وقت اسم اعظم بن جاتا ہے، جب کہ دعا کرنے والا اُس کو ایک غیر معمولی جذبے کے تحت استعمال کرے۔ پکارنے والے کا جذبہ اعظم، اسماء حسنیٰ میں سے کسی اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔ اسم اعظم کوئی پر اسرار منتر نہیں، وہ مکمل طور پر ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پکارنے والا یہ جانے کہ اُس نے اسم اعظم کے ذریعے خدا کو پکارا ہے۔ یہ دراصل خدا کی قبولیت ہے جو کسی اسم کو اسم اعظم کا درجہ دے دیتی ہے۔ اسم بظاہر ایک معلوم لفظ کا نام ہے، لیکن کسی چیز کا اسم اعظم ہونا، تمام تر داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ چوں کہ داخلی اسپرٹ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے یہ صرف اللہ ہے جو جانتا ہے کہ کب اُس کے کسی بندے نے اُس کو اسم اعظم کے ساتھ پکارا۔ یہ حقیقت صرف آخرت میں کھلے گی کہ وہ کون خوش قسمت انسان تھا جس کو اسم اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس معاملے میں اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو وہ صرف بربناء قیاس ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو حقیقی علم کی بنیاد پر اس بارے میں کوئی رائے دے سکے۔ خدا اور بندے کے درمیان خدا نے انسان کے لیے اپنے جن اسماء حسنیٰ کا تعارف کرایا ہے، وہ انسان کے اوپر ایک دروازہ رحمت کھولنے کے ہم معنیٰ ہے۔ اسماء حسنیٰ یہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان مواقع اتصال (meetingpoints) کیا کیا ہیں۔ ان مواقع اتصال کے ذریعے بندہ، خدا سے قربت حاصل کرسکتا ہے۔ پھر اگر بندے کی اسپرٹ بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذکر اور اپنی دعا میں اسم اعظم کا استعمال کر سکے، یعنی اُس اسم یا نام کا استعمال جس کے استعمال کے بعد ربانی اتصال اچانک اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے، جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے کے بعد اچانک بجلی کے بلب کا فورا روشن ہو جانا۔ یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، جس کو خود انسانوں کے درمیان محسوس تعلقات کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ دعا اور سپر دعا دعا، یا خدا کو پکارنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر کچھ متعین الفاظ بول کر خدا سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page