اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 372
By Maulana Wahiduddin Khan
المظلوم تحمل علی الغمام، وتفتح لها أبواب السماء، يقول الرب عزوجل: وعزتي، لأنصرنّك ولو بعد حين (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 305)۔ دعا اور سپر دعا کا فرق، الفاظ میں فرق کا نام نہیں، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپہرٹ میں فرق کا نام ہے۔ یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالتِ داخلی پر منحصر ہے کہ اُس کی زبان سے نکلنے والی دعا، سپر دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔ دو مثالیں اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اُس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں۔ اُس نے ان دعاؤں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں اُن کو دہرانے لگا۔ مثلاً: ربنا آتنا فی الدنيا حسنة، و فی الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار۔ یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (2:201)۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔ اب سپر دعا کی ایک مثال لیجیے۔ اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی، جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنھوں نے مصر میں دعوتِ توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اس کی بیوی آسیہ بنت مُزاحم، حضرت موسیٰ کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ قدیم زمانہ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِمْ کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا، سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا، اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا اور اُس کو وہ سزا دی جاتی تھی جو ریاست سے بغاوات کے لیے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام رائج تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader