Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لیے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رب ابن لي عندك بيتا في الجنة (66:11) یعنی اے میرے رب، اپنے پاس میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے۔ آسیہ کی اس دعا کو اُس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھئے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا— اے میرے رب، میں نے تیرے لیے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لیے اپنے پڑوس میں ایک محل بنا دے: I sacrifice my seat in the palace of worldly king, O Lord, give me a better seat in your neighbourhood in the world hereafter. آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے لیے بعض علما نے درست طور پر کہا: ما أحسن هذا الکلام، یعنی کتنی اچھی ہے یہ دعا (صفوة التفاسیر، جلد 3، صفحہ 412)۔ یہ دعا بلا شبہ، ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا— محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سفاکانہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اُس وقت اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اُس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر، دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہیے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لیے منتخب کر لینا چاہیے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے۔ اس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلا شبہ ایک سپر دعا تھی اور وہ فوراً ہی قبول ہو گئی۔ روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اُس کے محل کا مشاہدہ کرایا۔ چناں چہ آسیہ نے اِس حال میں جان دی کہ اُس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے بلکہ وہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page