اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 388
By Maulana Wahiduddin Khan
چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں۔ اس بات کا نواب صاحب پر بہت اثر پڑا۔ وہ اپنی گاڑی سے اتر پڑے اور سرسید کو لے کر اپنی کوٹھی کے اندر گیے۔ ان کو عزت کے ساتھ بٹھایا اور ان کو کالج کے لیے کافی چندہ دیا۔ میں نے اس واقعے کو لے کر کہا کہ خدایا، اگر میں عمل کی بنیاد پر کچھ پانے کا مستحق نہیں تو بھیک کے طور پر تو مجھے اپنا انعام عطا کردے، کیوں کہ تو نے قرآن میں جس طرح عامل کو عطیہ کا مستحق قرار دیا ہے، اسی طرح تو نے سائل کو بھی عطیہ کا مستحق بتایا ہے۔ اگر تو انسان سے یہ چاہتا ہے کہ وہ عامل کو دینے کے ساتھ سائل کو بھی دے تو یقینا میں امید کر سکتا ہوں کہ تو خود بھی میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ فرمائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے، جس کی توفیق مجھے خدا کی خصوصی رحمت کے تحت حاصل ہوئی۔ جہاں تک میرا تجربہ ہے، اسم اعظم کے ساتھ دعا نہ تو کسی یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام ہے اور نہ خود انسان پیشگی طور پر سوچ کر اس قسم کی دعا کر سکتا ہے۔ اس قسم کی دعا براہِ راست خدا کی توفیق سے ہوتی ہے اور وہ اچانک ہی انسان کے سینے سے ابل پڑتی ہے، جیسے کوئی جوالہ مکھی پہاڑ اچانک پھٹ پڑے، حالاں کہ موسمیات کے ماہرین نے اس کی پیشین گوئی نہ کی ہو۔
Kitab e Marifat

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader