اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 387
By Maulana Wahiduddin Khan
ترجمہ : جب اُن کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے : اے میرے فرشتو ، اُس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو ، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر تھا ، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم ، میرے کرم ، میرے علوشان اور میرے بلند مقام کی قسم ، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر خدا کہتا ہے کہ : تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیّات کو حسنات میں بدل دیا۔ پس وہ لوگ اِس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔ آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے، لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لیے ہے اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔ پھر مجھ کو سر سید احمد خاں (وفات 1898) کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہ اپنے محمدن کالج (موجودہ علی گڑھ یونیورسٹی ) کے چندے کے لیے ایک مسلم نواب کے یہاں گئے۔ نواب صاحب سرسید کے بعض خیالات پر اُن سے بہت غصہ تھے۔ انھوں نے سرسید سے ملنے سے انکار کر دیا ، مگر سرسید مایوس نہیں ہوئے۔ اُن کو معلوم تھا کہ شام کو نواب صاحب اپنی گھوڑا گاڑی پر سیر کے لیے نکلتے ہیں۔ اُس وقت ان کی کوٹھی کے سامنے بھکاری لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ نواب صاحب ہر ایک کو کچھ نہ کچھ دیتے ہوئے آگے چلے جاتے ہیں ۔ سرسید کے وقت وہاں پہنچے اور بھکاریوں کی صف میں اس طرح بیٹھ گئے کہ اپنی ٹوپی کو کاسۂ گدائی کی طرح اپنے سامنے رکھ لیا۔ نواب صاحب حسب معمول اپنی گھوڑا گاڑی پر نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ سرسید بھکاریوں کی صف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر نواب صاحب کو تعجب ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سید تم یہاں کہاں ۔ سرسید نے جواب دیا کہ — نواب صاحب ، اگر آپ مجھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader