Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت دین، احکامِ دین دینِ خداوندی کے دو حصے ہیں۔ اس کے ایک حصے کو معرفت کہہ سکتے ہیں، اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو احکام کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں یکساں طور پر ضروری ہیں، جس طرح ایک انسانی شخصیت کے لیے روح اور جسم دونوں یکساں طور پر ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن معرفت اور احکام میں یہ فرق ہے کہ معرفت، دین کا اصل حصہ (real part) ہے اور اس کے مقابلے میں، احکام کا حصہ دین کا اضافی حصہ (relative part) ہے۔ دین میں مذکورہ دو حصے کا ہونا نص کے ذریعے ثابت ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا: لکُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ ( صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک ظہر (outer portion) ہے اور دوسرا اس کا بطن (inner portion) ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیات کا ایک پہلو سطور (lines) میں ہے اور اس کا دوسرا پہلو بین السطور (between the lines) میں ملتا ہے۔ اس حدیث کو لے کر کہا جا سکتا ہے کہ دین کی معرفت نام ہے داخلی معنویت کا، اور دین کے مسائل یا احکام سے مراد دین کا خارجی ڈھانچہ ہے۔ مثال کے طور پر ایمان کو لیجیے۔ فقہی اعتبار سے ایمان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہے: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمد عبدُه ورسوله۔ جس شخص نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کر دیے، وہ فقہی مسئلے کے اعتبار سے مومن بن گیا۔ جہاں تک ایمان کی معرفت کی بات ہے، وہ اس قسم کے تلفظ سے الگ ایک چیز ہے۔ یہ عارفانہ ایمان کسی شخص کو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ محض ادائیگی الفاظ کے ذریعے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page