Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت نہ کر سکا۔ انسان نے خدا کو رسمی طور پر مانا، لیکن وہ خدا کی اعلیٰ معرفت سے محروم رہا۔ اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کو ماننے والے، خدا کو اپنا سول کنسِرن (sole concern) نہیں بنا پاتے۔ خدا کی ذات کے ساتھ ان کا وہ برتر تعلق قائم نہیں ہوتا جس کو ایموشنل اِٹیچمنٹ (emotional attachment) کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں مسلم تاریخ کا کوئی استثنا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار کتابیں لکھی گئیں، لیکن میرے علم کے مطابق، اللہ کی برتر عظمت اور اللہ کی اعلیٰ معرفت کے موضوع پر غالباً کوئی قابل ذکر کتاب نہ لکھی جاسکی۔ اس تاریخ کو پہلی بار جدید سائنس نے ختم کیا ہے۔ جدید سائنس نے پہلی بار یہ کام کیا کہ اس نے تمام انسانی اور غیر انسانی بڑائیوں کو تحلیل (dilute) کر دیا۔ اب کوئی بڑائی بڑائی نہیں رہی۔ اس طرح جدید سائنس نے معرفت کا ابتدائی نصف سفر طے کر دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ انسان اپنے غور و تدبر کے ذریعے معرفت کا بقیہ نصف طے کرے اور اللہ کی معرفت کو اعلیٰ ترین درجے میں حاصل کر سکے۔ اس معاملے کا ایک اور پہلو ہے، یہ وحدتِ وجود (monism) کا پہلو ہے۔ پچھلے ہزاروں سال کا تاریخی ریکارڈ بتاتا ہے کہ خدا پر عقیدہ رکھنے والے لوگوں نے بھی زیادہ تر خدا کو وحدتِ وجود کے مفہوم میں مانا، نہ کہ توحید (monotheism) کے مفہوم میں۔ وحدتِ وجود کیا ہے، وحدتِ وجود دراصل معلوم کائنات کے فریم ورک (framework) میں خدا کے وجود کو ماننا ہے۔ یہی قدیم زمانے میں تمام قائلینِ خدا کا مسلک تھا۔ جو لوگ شرک کے معنی میں خدا کو مانتے تھے، وہ بھی اور جو لوگ وحدتِ وجود کے معنی میں خدا کو مانتے تھے، وہ بھی خدا کو مشاہداتی فریم ورک کی نسبت سے مانتے تھے۔ وہ صرف اُس خدا کا تصور کر پاتے تھے جو عالمِ موجودات میں شامل ہو، نہ کہ اس کے باہر، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ مشرکین نے خود دکھائی دینے والی چیزوں ہی کو خدا مان لیا، اور وحدتِ وجود کے قائلین نے دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا کا ظہور سمجھ لیا۔ جدید سائنس نے پہلی بار ایک ایسا فریم ورک دیا ہے جب کہ خدا کا تصور موجودات کے دائرے سے باہر کیا جا سکے۔ پچھلے زمانوں میں مختلف صورتوں میں خود مخلوق کو خدا مان لیا جاتا تھا۔ اب دورِ سائنس میں یہ ممکن ہوا ہے کہ مخلوقات یا موجودات کے باہر خدا کا تصور کیا جاسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page