محبت الہی
Urdu book, p. 402
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت الہی کی قیمت قرآن کی سورہ الاحزاب میں فطرت (nature) کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَّا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ (33:4)۔ یعنی اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے : God has not placed two hearts in any man's body. اس قانونِ فطرت کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان کے دل میں نفرت اور محبت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ اگر انسان کے اندر نفرت کا جذبہ پیدا ہو جائے تو محبت کا جذبہ اس کے اندر سے نکل جائے گا۔ اسی طرح جو انسان محبت کرنے والا بن جائے، اُس کے اندر سے دوسروں کے خلاف نفرت کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، اور اس معاملے میں ہر ایک کو بے حد محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اللہ سے شدید محبت کرنے والا بنے (البقرۃ، 2:165)۔ اس محبت کے بغیر کوئی شخص خدا کے اعلیٰ عنایات کا مستحق نہیں بن سکتا۔ مگر اس محبت کی ایک لازمی قیمت ہے، وہ قیمت یہ ہے کہ انسان کسی بھی حال میں اپنے اندر نفرت کے جذبات آنے نہ دے۔ وہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ہر شکایت کو بھلائے، وہ ہر غلطی کو معاف کرے، وہ ہر ظلم پر صبر کرے، وہ ہر ناپسندیدہ بات کو نظر انداز کرے، غرض وہ ہر قیمت کو ادا کر کے اپنے آپ کو نفرت سے دور رکھے۔ یہی محبت الہی کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، وہ محبت الہی کی سعادت سے محروم رہے گا۔ عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی نفرت کے لیے ایک عذر (excuse) تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میری نفرت فلاں سبب سے ہے، اور جہاں یہ سبب پایا جاتا ہو، وہاں کوئی شخص نفرت سے بچ نہیں سکتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ محبت الہی کے معاملے میں ہر عذر ایک جھوٹا عذر ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی عذر قابل سماعت نہیں۔ اس معاملے میں کسی عذر کو اپنے لیے عذر بنانا، صرف اس قیمت پر ہوگا کہ ایسا شخص خدا کی محبت سے محروم ہو کر رہ جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader