محبت الہی
Urdu book, p. 403
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ سے محبت قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے، اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں (2:165)۔ اس آیت میں محبت الہی سے کیا مراد ہے۔ صوفیا اس کو عشق الہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ علماء کا عام طور پر ماننا یہ ہے کہ محبت الہی سے مراد اطاعت الہی ہے۔ مگر ان دونوں تفسیروں میں محبت کا اصل مفہوم نہیں آتا۔ محبت دراصل کسی کے ساتھ نہایت گہرے قلبی میلان کا نام ہے، یعنی: Strong affection, deep emotional attachment. اللہ کے ساتھ یہ گہر اقبلی میلان اُس انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو اللہ کے اعلیٰ انعامات کو شعوری طور پر دریافت کرے ۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا جب کہ اس کا کوئی وجود نہ تھا (مریم، 9:19)۔ اللہ نے انسان کو بہترین صورت عطا فرمائی (غافر، 40:64)، اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا (صحیح البخاري، حديث نمبر 6227)۔ انسان کو اللہ نے رہنے کے لیے زمین دی، جہاں استثنائی طور پر اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، انسان کے لیے اللہ نے جنت کی صورت میں ایک معیاری دنیا (perfect world) بنائی، جہاں اس کو پورا فل فلمینٹ حاصل ہو۔ اللہ نے انسان کو عقل دی جو حدیث کے مطابق، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اکرم واشرف چیز ہے (ما خلق الله خلقاً أكرم عليه من العقل) دیکھیے، نوادر الاصول للحكيم الترمذی، حدیث نمبر 1033 ۔ اللہ نے انسانوں کے اندر استثنائی طور پر مودت پیدا کی جس کی وجہ سے خاندان اور سماج جیسی چیز وجود میں آتی ہے (الروم، 30:21)۔ ان سب پر مزید یہ کہ اللہ نے انسان کو استثنائی طور پر شعور دیا جس سے وہ انعامات الہی کو جانے ۔ اللہ نے استثنائی طور پر انسان کو احساس لذت (sense of pleasure) دیا، جس سے وہ انعامات سے پوری طرح محظوظ ہو سکے ۔ اس طرح کے بے شمار انعامات ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا کیے ہیں۔ جب آدمی ان بے شمار انعامات الہی کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں حبّ شدید (البقرۃ، 2:165) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader