محبت الہی
Urdu book, p. 405
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت قریب، جنت بعید قرآن کی سورہ القمر میں اہل جنت کے بارے میں آیا ہے: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ، فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ (54-54:55)۔ یعنی بے شک اللہ سے ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، بیٹھے ہوئے سچائی کی سیٹ پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ قرآن کی اس آیت اور دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے دو درجے ہیں— ایک، جنت قریب، اور دوسری، جنت بعید۔ جنت قریب، خدا کے پڑوس میں ہوگی۔ یہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اعلیٰ معرفت والے لوگ ہوں گے۔ جنت بعید سے مراد خدا کے پڑوس سے دور کی جنت ہے۔ اس جنت میں عام اہل ایمان کو جگہ ملے گی۔ عام اہل ایمان بھی جنت میں جگہ پائیں گے، لیکن ان کو جنت بعید میں جگہ ملے گی، نہ کہ جنت قریب میں۔ اعلیٰ معرفت والے لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں یہ آیا ہے: جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے رکھنے والے ہیں (البقرہ، 2:165)۔ یہ وہ اصحاب معرفت ہیں جنھوں نے اللہ کو ایسی برتر ہستی کے طور پر دریافت کیا جو کامل طور پر ان کے دل و دماغ پر چھا گیا۔ ان کی ساری محبتیں ایک اللہ کے لیے وقف ہوگئیں۔ اللہ وحدہ لاشریک ہی اُن کا سب سے بڑا آنسرن (supreme concern) بن گیا۔ اُن کی سوچ تمام تر اللہ والی سوچ (God-oriented thinking) بن گئی۔ جن لوگوں کو اللہ سے محبت کے درجے کا تعلق ہو جائے، وہ اللہ کے حضور (presence) میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو دنیا ہی میں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں یہ قربت (closeness) نفسیات کی سطح پر ملتی ہے، آخرت میں اُن کو قربت کا یہ تجربہ عملی سطح پر ہونے لگے گا۔ وہ دنیا ہی کی زندگی میں خدا کی قربت کا تجربہ کر رہے تھے، آخرت میں انھیں قربت الہی کے مزید اعلیٰ درجات حاصل ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader