Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 406

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ کی محبت قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: والذین آمنوا أشد حبّاللہ (2:165)۔ اس آیت کے مطابق، اللہ کا مومن بننے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔ مذکورہ قرآنی آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ اہلِ ایمان اللہ سے حب شدید کرتے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اہلِ ایمان کے اندر اللہ سے حب شدید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ محبت جواب (response) کے طور پر کسی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک انسان اللہ کو اپنے سب سے بڑے محسن اور منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سینے میں اللہ کے لیے محبت کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام حب شدید ہے۔ محبت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک دریافت (discovery) کا نتیجہ ہے، وہ محض ایک حکم کی تعمیل نہیں۔ انسان جب اپنے آپ کو احسن تقویم (95:4) کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے ساتھ تکریم (17:70) کا معاملہ کیا ہے، جب وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ نے اس کے لیے زمین اور آسمان کو مسخر کر دیا ہے، جب وہ ان بے شمار نعمتوں کو دریافت کرتا ہے جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے، جب وہ اللہ کے اس احسان کو دریافت کرتا ہے کہ اُس نے پیغمبر کے ذریعے اس کی ہدایت کا انتظام فرمایا، جب کہ وہ اس سے پوری طرح بے خبر تھا، جب وہ کائناتی پیمانے پر اللہ کی تخلیق اور اس کی ربوبیت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا بے پناہ جذبہ امڈ پڑتا ہے۔ یہی شکر الہی محبت الہی کا منبع ہے۔ اسی سے انسان کے اندر وہ گہرا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں حب شدید کہا گیا ہے۔ اصل بات یہ نہیں ہے کہ محبت کرو، اصل بات یہ ہے کہ اللہ کو اتنے بڑے منعم کی حیثیت سے دریافت کرو کہ تمھارے اندر اللہ کے لیے حب شدید پیدا ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page