Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 412

By Maulana Wahiduddin Khan

محبت، اتباع قرآن میں اہل ایمان کی صفت بتائی گئی ہے : (ترجمہ) جو ایمان والے ہیں، وہ اللہ سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے ہیں (2:165)۔ محبت کے لفظی معنی ہیں— شدید میلآن (strong affection) مومن وہ ہے جس کے اندر اپنے رب سے اس قسم کا گہرا قلبی تعلق پیدا ہو جائے۔ کچھ لوگ اس آیت میں محبت کو اتباع کے معنی میں لیتے ہیں۔ اس تفسیر کے لیے وہ اس قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہیں: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (3:31) یعنی اے پیغمبر، کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو تم میرا اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ محبت کو اتباع کے معنی میں لینے کے لیے یہ حوالہ درست نہیں۔ قرآن کی یہ آیت محبت الہی کی تعریف (definition) کے طور پر نہیں، وہ صرف محبت الہی کے ایک تقاضے کو بتا رہی ہے، یعنی اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ تم اللہ کے رسول کے متبع (follower) بن جاؤ۔ محبتِ الہی ایک اعلیٰ ترین کیفیت ہے۔ محبت الہی کا سرچشمہ اللہ کے انعامات کا ادراک ہے۔ جب ایک شخص اللہ کو اپنے منعم کامل کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی محبت میں غرق ہو جاتا ہے۔ اللہ کی محبت اُس کے قلب و روح کا سب سے بڑا سرمایہ بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کچھ جو ہمیں اس دنیا میں ملا ہوا ہے، اپنے وجود سے لے کر خارجی اشیا تک، سب کا سب اللہ کا عطیہ ہے، حتی کہ لذت اور مسرت کے جذبات بھی اللہ کا عطیہ ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری ہے کہ انسان کو تمام چیزوں سے زیادہ اللہ سے محبت ہو، اللہ سے اُس کو والہانہ تعلق پیدا ہو جائے، اللہ اس کے تمام جذبات اور کیفیات کا مرکز بن جائے۔ محبت ایک اعلیٰ ترین نفسیاتی کیفیت کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جسے جس کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ اور اس کے رسول کا اتباع اس محبت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اتباع کو ہرگز محبت کی تعریف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page