محبت الہی
Urdu book, p. 413
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت ایک دو طرفہ معاملہ ایک طویل روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آتی ہے ۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والله لا يلقي الله حبيبه في النار (مستدرك الحاكم، حدیث نمبر (7347)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اللہ اُس شخص کو آگ میں نہیں ڈالے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہ حدیث کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ اس حدیث میں جس محبت کا ذکر ہے، وہ دوطرفہ ہے، نہ کہ یک طرفہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان غور و فکر کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے، جو اللہ کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرے، ایسے انسان کا حال یہ ہوگا کہ اللہ اس کا محبوب بن جائے گا، اُس کے تمام قلبی جذبات اللہ سے وابستہ ہو جائیں گے۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہو کہ اس کے شعوری ادراک کے نتیجے میں اللہ اس کا محبوب بن جائے تو اس کے بعد ایسا انسان خود بھی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور جب اس اعتبار سے کوئی شخص اللہ کا محبوب بن جائے تو یہ محبوبیت اُس آدمی کے لیے اس بات کی ضمانت ہوگی کہ اللہ اُس کو قیامت کے دن ہرگز آگ میں نہیں ڈالے گا۔ کسی انسان کا محبوب خدا بن جانا کوئی پراسرار چیز نہیں، یہ فطری اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ سے اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اللہ سے اُس کو محبت کے درجے میں تعلق پیدا ہو جائے، تو ایسا انسان، اللہ کی نظر میں اُس کا مستحق بن جاتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے اور اس کو آخرت کے عذاب سے بچا لے۔ اللہ کا کسی انسان سے محبت کرنا بر بنائے رحمت ہوتا ہے، اور انسان کا اللہ سے محبت کرنا بر بنائے انعام ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت کسی بندے کے لیے ایک عطیہ الہی ہے، اور بندے کی محبت اللہ کے لیے شکر و اعتراف کا ایک معاملہ ہے۔ یہی شکر و اعتراف بلا شبہ جنت کی قیمت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader