Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

استثنائی رحمت کا معاملہ انسان کا وجود خدا کی رحمت کا ظہور ہے۔ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقد رضرورت دی گئی ہیں (ابراہیم، 14:34)۔ جنت میں مزید اضافے کے ساتھ انسان کو یہ رحمت حاصل ہوگی۔ قرآن کے مطابق ،جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقد راشتہا (فصلت، 41:31) دی جائیں گی۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ تمام عطیات کو خدا کی رحمت کی نسبت سے دریافت کرے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزوں کا ملنا بھی خدا کی رحمت کا ظہور ہے، اور جنت میں تمام چیزوں کا بقد راشتہا ملنا بھی خدا کی رحمت کا ظہور ۔ موجودہ دنیاور ضورت کی سطح پر خدا کی رحمت کا تجربہ کرنے کی جگہ ہے۔ جنت وہ مقام ہے جہاں انسان انجوائے مینٹ (enjoyment) کی سطح پر خدا کی رحمت کا تجربہ کرے گا۔ انبیساط (pleasure) انسان کی ایک استثنائی صفت ہے۔ ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جس کو خصوصی طور پر یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ چیزوں سے انجوائے (enjoy) کر سکے۔ انجوائے مینٹ کی اس صفت کا تجربہ موجودہ دنیا میں انسان کو ابتدائی طور پر ہوتا ہے، اور جنت میں اس کا تجربہ انسان کو انتہائی طور پر ہوگا۔ انسان کے ساتھ خدا کی یہ رحمت خاص انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اسی رحمت خاص کی دریافت سے انسان کے اندر اپنے رب کے لیے حب شدید (البقرۃ، 2:165) کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ معرفت کا سب سے اعلیٰ درجہ یہی ہے کہ انسان کو اپنے رب کے ساتھ محبت (strong affection) کی سطح پر تعلق پیدا ہوجائے۔ خدا سے اس حب شدید کے لیے ایک حقیقی بنیاد درکار ہے۔ یہ حقیقی بنیاد یہی ہے کہ انسان اپنے بارے میں خدا کی استثنائی رحمت کو دریافت کرے ۔ یہی وہ دریافت ہے جس کے بعد کسی انسان کے اندر خدا کے لیے حب شدید کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس دریافت کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس کیفیت کے حصول کے لیے کارآمد نہیں ہوسکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page