محبت الہی
Urdu book, p. 418
By Maulana Wahiduddin Khan
حمدِ خداوندی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح کرے، یعنی اُس کو اللہ کی معرفت اور اللہ کا ادراک اتنی گہرائی کے ساتھ ہو جائے کہ اس کی زبان سے بار بار خدا کے اعلیٰ اعتراف کا کلمہ نکلنے لگے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی بات آسمانوں اور زمینوں سے بھی مطلوب ہے۔ قرآن کے مطابق، ساری کائنات عملاً اللہ کی حمد و تسبیح کر رہی ہے (التغابن، 1: 64)۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوقات سے اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑی جو چیز مطلوب ہے، وہ حمد ہے، یعنی اعلیٰ اعتراف۔ انسان کے سوا، اس کائنات کی دوسری چیزیں ہر وقت غیر ملفوظ زبان (unspoken language) میں اللہ کی حمد میں مشغول ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے استثنائی طور پر زبان دی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ملفوظ زبان (spoken language) میں اللہ کی حمد کرنے لگے۔ وہ بقیہ کائنات کی غیر ملفوظ حمد کو، ملفوظ زبان میں دہرائے۔ کائنات کی معنویت کو دیکھ کر انسان کی زبان سے گہرے اعتراف کا جو کلمہ نکلتا ہے، اُسی کا نام حمد ہے۔ جب انسان اپنے بارے میں غور کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ اللہ نے مجھے احسن تقویم (التین، 95:4) پر پیدا کیا ہے۔ اسی طرح جب انسان مصنوعاتِ خداوندی پر غور کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ ہر چیز کمال کے آخری درجے پر ہے (النمل، 27:88)۔ یہ چیزیں آدمی کے اندر حمد کے چشمے جاری کر دیتی ہیں۔ آدمی اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ اللہ کا اعتراف کرنے لگتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34)۔ یعنی اللہ نے انسان کو وہ سب کچھ دے دیا جس کا اُس نے سوال کیا تھا۔ غور کیجئے تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سوال کے بغیر ہی اُس نے انسان کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں دے دیں۔ اللہ کے ان نا قابلِ شمار انعامات کے بارے میں جب انسان سوچتا ہے تو اس کے بعد اس کی زبان سے اعتراف کے جو اعلیٰ کلمات نکلتے ہیں، اُنھیں کا نام حمد ہے۔ یہی حمد وہ چیز ہے جو انسان کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader