Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 423

By Maulana Wahiduddin Khan

عجز کی طاقت لوگ مظلوم کی طاقت کو جانتے ہیں، لیکن لوگ عاجز کی طاقت کو نہیں جانتے، حالاں کہ عاجز کی طاقت مظلوم کی طاقت سے بھی زیادہ ہے۔ ایک فارسی شاعر نے کہا ہے کہ۔ مظلوم کی آہ سے بچو، کیوں کہ جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے اجابت خود اُس کے استقبال کے لیے دوڑ پڑتی ہے: بترس از آہ مظلوماں کہ هنگام دعا کردن اجابت از در حق بهر استقبال می آید مگر مظلومیت سے بھی زیادہ بڑی حقیقت عجز ہے۔ اگر کوئی شخص واقعی طور پر اپنے عجز کو دریافت کرے، وہ واقعی طور پر اس کا ادراک کرلے کہ خدائے قادر مطلق کے مقابلے میں وہ سرتاسر ایک عاجز انسان ہے، تو اس کی زبان سے دعا کا ایسا کلمہ نکلے گا جس کا تحمّل زمین و آسمان بھی نہیں کرسکیں گے۔ وہ کلمہ یہ ہے ۔ خدایا، تو نے مجھے عاجز انسان کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اب تو ایسا نہیں کر سکتا کہ تو میرے بارے میں غیر جانب دار (indifferent) ہو جائے۔ عجز کیا ہے ۔ عجز حقیقت انسانی کی دریافت ہے۔ عجز یہ ہے کہ آدمی خالق کی نسبت سے، اپنی حیثیت واقعی کو دریافت کر لے۔ عجز سادہ طور پر مسکینی کا نام نہیں، عجز اکتشاف حقیقت کا نام ہے۔ عجز اپنے آپ میں ایک طاقت ہے۔ عجز خدا کے سامنے سب سے بڑی سفارش ہے۔ عجز کا مطلب اپنے آپ کو عبدیت کے مقام پر کھڑا کرنا ہے، اور بلاشبہ عبدیت سے بڑا کوئی مقام نہیں۔ قرآن کی سورہ العلق میں ارشاد ہوا ہے : وَ اسْجُدُ وَ اقْتَرِبْ (96:14)۔ سجدہ اظہار عجز کی آخری صورت ہے۔ عجز بلاشبہ قربت خداوندی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جہاں عجز کی آخری حد آجائے، وہاں سے اُس ربانی تجربے کا آغاز ہو جاتا ہے جس کو لقائے رب کہا گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کبر (arrogance) آدمی کو خدا سے دور کر دیتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عجز (helplessness) آدمی کو خدا سے قریب کر دینے والا ہے۔ کبر (arrogance) اللہ سے دوری کا ذریعہ ہے، اور عجز (helplessness) اللہ سے قربت کا ذریعہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page