محبت الہی
Urdu book, p. 424
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی یاد میں رونا ایک ماں کا بیٹا اُس سے دور چلا گیا۔ دس سال تک دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہ تھا۔ آخر میں بیٹے کا ایک دوست اس کی ماں کے پاس آیا۔ اس کے پاس بیٹے کا ایک فوٹو تھا۔ اُس نے یہ فوٹو ماں کو دکھایا۔ فوٹو دیکھتے ہی ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ ایسا کیوں ہوا، اس کا سبب یہ تھا کہ فوٹو کو دیکھ کر ماں کو اپنا بیٹا یاد آ گیا۔ فوٹو کو دیکھنے کے بعد ماں اور بیٹے کے درمیان یادوں کی سطح پر ایک ناقابل مشاہدہ اتصال (invisible contact) قائم ہو گیا۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کی یاد میں رونے کا معاملہ کیا ہے۔ یہ خدا اور بندے کے درمیان نفسیات کی سطح پر اتصال کا ایک نتیجہ ہے۔ ایک انسانی روح کو جب اپنے رب سے نفسیاتی اتصال کا تجربہ ہوتا ہے تو یہ تجربہ آنکھوں سے آنسو کی شکل میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت قرآن کی سورہ مریم کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا (19:58) ۔ دوسری جگہ قرآن کی سورہ العلق میں یہ آیت آئی ہے: وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب (19: 96) ۔ ایک حقیقی سجدہ، خدا اور بندے کے درمیان قربت کا لمحہ ہوتا ہے۔ اُس وقت خدا اور بندے کے درمیان ایک غیر مرئی سطح پر روحانی اتصال قائم ہو جاتا ہے ۔ اتصال کا یہ تجربہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ بندے کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں کسی انسان کے لیے سب سے بڑا روحانی واقعہ یہ ہے کہ اس کو خدا سے قربت کا تجربہ ہو۔ قربت کا یہ واقعہ دو مساوی (equals) وجود کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ دو غیر مساوی (inequals) وجود کے درمیان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اتصال کے وقت انسان کا وہی حال ہوتا ہے، جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں اسی قسم کے غیر مساوی اتصال کے وقت پہاڑ کا ہوا تھا (الاعراف، 7:143) ۔ کسی بندے کے لیے یہ تجربہ دوا نہائی کیفیات کی یکجائی کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایک اعتبار سے شدید اضطراب، اور دوسرے اعتبار سے شدید اطمینان ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader